ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تو دوبارہ حملوں کا امکان انتہائی کم ہے، ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے جاری مذاکرات میں پیش رفت ہوتی رہی تو امریکا کی جانب سے ایران پر نئے حملوں کا حکم دینے کا امکان انتہائی کم ہے،ایران بھی امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے بہت بے تاب ہے، حملوں سے مکمل گریز کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تہران ایک مضبوط معاہدے پر دستخط کرتا ہے یا نہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ٹیلی فونک انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھتے رہے تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پیش آنے کا امکان کم ہے، 20 منٹ کی گفتگو کے دوران امریکی صدر نے 5 مرتبہ اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران پر دوبارہ حملوں کا امکان انتہائی کم ہے۔
ٹرمپ نے تاہم واضح کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ ایران پر حملوں کا حکم دینے سے گریز نہیں کریں گے،ہم ایران کو پہلے ہی بہت بری طرح نشانہ بنا چکے ہیں اور اسے اتنی شدید ضرب لگائی ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، اس لیے دوبارہ حملے کرنے کی ضرورت پیش آنے کا امکان بہت کم ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران معاشی طور پر تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے اور امریکا اسے فوجی اعتبار سے بھی شدید نقصان پہنچا چکا ہے۔ انہوں نے دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ امریکا چاہے تو ایران کا مکمل خاتمہ بھی کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کی معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ناکام ہوتی ہوئی ریاست قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ایران میں مہنگائی کی شرح 301 فیصد تک پہنچ چکی ہے،ایران کو معاشی اور فوجی دونوں محاذوں پر شدید مشکلات کا سامنا ہے اور موجودہ حالات میں تہران کے لیے معاہدہ کرنا زیادہ بہتر راستہ ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگر انہوں نے ایران پر دوبارہ حملوں کا حکم دیا تو امریکی فوج پہلے ہی خطے میں کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، امریکا کے 3 طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں موجود ہیں اور تینوں مکمل طور پر تیار اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرویو میں مزید دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کے 38 پلوں کی نشاندہی کر رکھی ہے جنہیں صرف ایک گھنٹے میں تباہ کیا جا سکتا ہے، وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ان پلوں کی دوبارہ تعمیر میں تقریباً 10 سال لگ سکتے ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہیں پل تباہ کرنا پسند نہیں کیونکہ پلوں کی تعمیر دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے،وہ ایران پر مزید حملے نہیں کرنا چاہتے، لیکن اگر مذاکرات کسی مضبوط معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت