بہاولنگر میں آوارہ کتوں کا کمسن طالبہ پر وحشیانہ حملہ، آوارہ کتوں کے کاٹنے کے بعد علاج پر سوالات

بہاولنگر: پنجاب کے ضلع بہاولنگر میں آوارہ کتوں کے غول نے ایک اور معصوم جان لے لی، منڈی مدرسہ کے نواحی علاقے عاکوکا ہٹھاڑ کی بستی یاسین کا میں درجن سے زائد آوارہ کتوں نے 12 سالہ طالبہ ریحانہ کو گھیر کر حملہ کردیا اور بری طرح نوچ ڈالا، بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ افسوس ناک واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ اہل علاقہ کی بڑی تعداد جائے وقوع پر جمع ہوگئی۔
پولیس کے مطابق 12 سالہ طالبہ ریحانہ مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے گھر سے نکلی تھی کہ راستے میں درجن سے زائد آوارہ کتوں نے اسے گھیر لیا۔ کتوں نے بچی پر اچانک حملہ کیا اور اسے بری طرح بھنبھوڑ ڈالا۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ طالبہ کو سنبھلنے یا اپنی جان بچانے کا موقع تک نہ مل سکا اور وہ شدید زخموں کے باعث موقع پر ہی دم توڑ گئی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی اہل علاقہ بڑی تعداد میں جائے وقوع پر پہنچ گئے۔ کمسن بچی کی المناک موت پر علاقے میں سوگ اور غم و غصے کی فضا پیدا ہوگئی۔ اہل علاقہ نے آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور انتظامیہ کی جانب سے ان کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس دلخراش واقعے نے ایک مرتبہ پھر ملک بھر میں آوارہ کتوں کے مسئلے اور شہریوں، بالخصوص بچوں کے تحفظ کے لیے انتظامیہ کی ذمہ داریوں پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ پاکستان کے مختلف شہروں اور دیہی علاقوں میں آوارہ کتوں کے حملوں کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں، جن میں بچوں اور دیگر شہریوں کو زخمی ہونے کے ساتھ بعض اوقات جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ اس کے باوجود کتوں کی افزائش پر قابو پانے، آبادیوں سے انہیں محفوظ طریقے سے ہٹانے اور شہریوں کو حملوں سے بچانے کے لیے مستقل اور مربوط حکمت عملی کا فقدان محسوس ہوتا ہے۔
صرف آوارہ کتوں کے حملوں سے بچاؤ ہی نہیں بلکہ کتے کے کاٹنے کے بعد متاثرہ افراد کو فوری اور مکمل طبی امداد کی فراہمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ملک کے متعدد علاقوں میں سرکاری اسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کے علاج، ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین اور ضرورت پڑنے پر امیونوگلوبیولن کی بروقت دستیابی ایک اہم چیلنج ہے۔ بعض مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو علاج کی سہولت حاصل کرنے کے لیے ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال جانا پڑتا ہے، جس کے دوران قیمتی وقت ضائع ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق کتے کے کاٹنے کے بعد زخم کو فوری طور پر صابن اور بہتے پانی سے کم از کم 15 منٹ تک دھونا اور بلا تاخیر اسپتال پہنچنا ضروری ہے۔ ریبیز ایک انتہائی خطرناک بیماری ہے اور علامات ظاہر ہونے کے بعد عموماً جان لیوا ثابت ہوتی ہے، بروقت ویکسین اور ضرورت کے مطابق دیگر طبی اقدامات کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔
بہاولنگر کا یہ واقعہ محض ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ متعلقہ اداروں کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے کہ آوارہ کتوں کی روک تھام کو معمول کی کارروائی کے بجائے عوامی تحفظ کا اہم مسئلہ سمجھا جائے۔ شہری اور دیہی علاقوں میں کتوں کی تعداد پر قابو پانے، بچوں کے تعلیمی اداروں اور رہائشی آبادیوں کے اطراف حفاظتی اقدامات کرنے اور کتے کے کاٹنے کے متاثرین کے لیے سرکاری اسپتالوں میں مفت اور فوری علاج کی سہولت یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ جب تک بلدیاتی ادارے، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت مشترکہ حکمت عملی اختیار نہیں کریں گے، ایسے افسوس ناک واقعات کا خطرہ برقرار رہے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کسی اور بچے یا شہری کی جان ضائع ہونے سے پہلے آوارہ کتوں کی روک تھام اور متاثرین کے علاج کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت