اتوار، 8 نومبر، 2026 · 29 جمادی الاول، 1448 ہجری

خیبرپختونخوا کی جامعات مالی بحران کا شکار، وفاق سے 18 ارب روپے خصوصی گرانٹ کا مطالبہ

قومی خبریں
خیبرپختونخوا کی جامعات مالی بحران کا شکار، وفاق سے 18 ارب روپے خصوصی گرانٹ کا مطالبہ

پشاور: خیبرپختونخوا کی سرکاری جامعات کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے، صوبے کی 34 سرکاری جامعات میں سے 26 خسارے کا شکار ہوگئی ہیں، جس کے باعث صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے 18 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ مالی بحران کے باعث جامعات کے انتظامی امور، تعلیمی سرگرمیوں اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ فیسوں میں اضافے کے ذریعے خسارہ پورا کرنے کی کوششوں سے طلبہ اور ان کے والدین پر مزید مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔

اس حوالے سے خیبرپختونخوا کے محکمہ اعلیٰ تعلیم نے چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو خط ارسال کیا ہے، جس میں صوبے کی سرکاری جامعات کی مالی مشکلات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے 18 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

خط میں بتایا گیا ہے کہ صوبے کی 34 سرکاری جامعات میں سے 26 کو مالی خسارے کا سامنا ہے اور ان کا مجموعی خسارہ 5 ارب 60 کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ ان جامعات میں تقریباً 2 لاکھ طلبہ زیرتعلیم ہیں، جن کی تعلیم اور مستقبل مالی مشکلات کے باعث متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

محکمہ اعلیٰ تعلیم کے مطابق جامعات کو درپیش مالی بحران کی بڑی وجوہات میں حکومتی گرانٹس میں کمی، تنخواہوں اور پنشن کے اخراجات میں مسلسل اضافہ اور تعلیمی اداروں کے انتظامی اخراجات کا بڑھنا شامل ہے۔ گزشتہ 10 سال کے دوران جامعات کو گرانٹس کی مد میں مجموعی طور پر 18 ارب روپے کی کمی کا سامنا رہا ہے، جس نے ان کے مالی معاملات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

خط میں مزید نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ 3 سال کے دوران ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے فراہم کی جانے والی گرانٹ میں 6.3 فیصد کمی ہوئی جبکہ دوسری جانب فنڈز کی دستیابی محدود ہونے کے باوجود جامعات کے اخراجات میں 18 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تنخواہوں، پنشن اور دیگر لازمی اخراجات میں اضافے کے باعث جامعات کے لیے اپنے روزمرہ امور چلانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

محکمہ اعلیٰ تعلیم نے خط میں بتایا ہے کہ صوبائی حکومت نے مالی مشکلات کے پیش نظر سرکاری جامعات کے لیے اپنی گرانٹ میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 11 ارب 85 کروڑ روپے کردیا ہے، یہ رقم تمام جامعات کی ضروریات پوری کرنے اور مالی خسارے پر قابو پانے کے لیے ناکافی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اضافی وسائل فراہم کرنے کے باوجود جامعات کو اپنے مالی معاملات چلانے کے لیے مزید معاونت درکار ہے۔

خط میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ اگر جامعات کے مالی مسائل حل نہ کیے گئے تو اس کا براہ راست اثر طلبہ پر پڑے گا۔ جامعات اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے فیسوں میں اضافے پر مجبور ہوسکتی ہیں، جس سے متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کا حصول مزید مشکل ہوجائے گا۔ پہلے ہی مہنگائی اور بڑھتے ہوئے گھریلو اخراجات کے باعث والدین کے لیے بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

محکمہ اعلیٰ تعلیم نے وفاقی حکومت اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ جامعات کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے فوری طور پر 18 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ فراہم کی جائے، جامعات کو گرانٹس فراہم کرتے وقت وہاں زیرتعلیم طلبہ کی تعداد کو مدنظر رکھا جائے تاکہ زیادہ طلبہ والی جامعات کو ان کی ضروریات کے مطابق وسائل مل سکیں۔

صوبائی حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو مالی مشکلات سے نکالنا ضروری ہے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں اور طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی جاری رکھی جاسکے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اضافی مالی معاونت نہ ملنے کی صورت میں جامعات کا مالی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت