ایران کا جوہری پروگرام دوبارہ فعال : اسرائیل کیلیے خطرات ابھی ختم نہیں ہوئے، اسرائیلی وزیر دفاع

تل ابیب:اسرائیل کا ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش کا اظہار ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جنگ بندی کے باوجود فلسطینی شہریوں پر اسرائیلی حملوں کی اطلاعات بھی مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ اسرائیلی کارروائیوں میں معصوم فلسطینیوں کی جانوں کو لاحق خطرات اور انسانی بحران پر عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران ایک مرتبہ پھر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششیں شروع کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ایسی دیگر سرگرمیوں میں بھی مصروف ہے جو اسرائیل کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ایران کے حوالے سے اسرائیل کا مشن ابھی مکمل نہیں ہوا اور تہران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوششوں کی بحالی اسرائیل کے لیے تشویش کا باعث ہے،اسرائیل کو درپیش خطرات کے پیش نظر سیکیورٹی معاملات پر مسلسل نظر رکھنے اور ہر ممکن صورت حال کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے کہ ایران نے جوہری ہتھیار بنانے کی کوششیں دوبارہ شروع کردی ہیں۔ ایران طویل عرصے سے جوہری ہتھیار بنانے کے اسرائیلی الزامات کی تردید کرتا آیا ہے اور اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا ہے۔
خیال رہےکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد خطے میں امن و سلامتی کی صورت حال بدستور غیر یقینی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو بھی حالیہ ہفتوں میں ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں دے چکے ہیں، جس سے خطے میں ایک نئی جنگ کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کو مسلسل خطرہ قرار دینے کے باوجود غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود اسرائیلی حملوں میں فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، نومبر کے آغاز میں غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں متعدد فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں عام شہری بھی شامل تھے۔
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود حملوں کا سلسلہ اس معاہدے کی پائیداری اور فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کر رہا ہے۔ اسرائیلی حملوں کے باعث پہلے ہی تباہ حال غزہ میں رہنے والے لاکھوں فلسطینیوں کو جان کے تحفظ، خوراک، ادویات، علاج معالجے اور رہائش جیسے بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔ اسرائیلی فوج کی کارروائیوں سے متاثر ہونے والے معصوم فلسطینیوں کی مشکلات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہی ہیں۔
ایسے حالات میں اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کو خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینا بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ایک طرف اسرائیل اپنے تحفظ اور سلامتی کے خدشات کا اظہار کر رہا ہے تو دوسری جانب فلسطینی شہریوں کو مسلسل حملوں اور انسانی بحران کا سامنا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں اور شہری آبادی کو جنگی کارروائیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
بشکریہ روزنامہ جسارت