اسرائیل کا فلسطینی کسانوں سے اظہارِ یکجہتی کرنے والے 14 غیر ملکی رضاکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم

تل ابیب: اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی کسانوں سے اظہارِ یکجہتی اور زیتون کی سالانہ فصل کی کٹائی میں مدد کے لیے آنے والے 14 غیر ملکی انسانی حقوق کے رضاکاروں کو گرفتار کرنے کے بعد فوری طور پر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ رضاکار فلسطینی کسانوں کو اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنے اور فصل کی کٹائی میں ان کا ساتھ دینے کے لیے مغربی کنارے پہنچے تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے جمعے کے روز رام اللہ کے قریب پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد غیر ملکی رضاکاروں کو حراست میں لیا تھا،ان رضاکاروں کی اسرائیلی آبادکاروں کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی اور اس دوران جھڑپ بھی پیش آئی، جس کے بعد انہیں گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی گئی۔
ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز فنڈ کے مطابق گرفتار کیے جانے والے رضاکار فلسطینی کسانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے آئے تھے۔ ان کا بنیادی مقصد زیتون کی سالانہ فصل کی کٹائی کے دوران فلسطینی کسانوں کے ساتھ کھڑے ہونا اور انہیں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا تھا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ زیتون کی فصل کی کٹائی فلسطینی کسانوں کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ ان کی آمدنی اور روزگار کا ایک بڑا ذریعہ ہے،حالیہ عرصے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی کسانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان واقعات میں کسانوں پر تشدد، زرعی زمینوں تک رسائی میں رکاوٹیں ڈالنے اور زیتون کی فصل چوری کرنے جیسے واقعات شامل ہیں۔
رواں سیزن کے دوران فلسطینی کسانوں کو اپنی فصلیں محفوظ رکھنے اور زرعی زمینوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں غیر ملکی انسانی حقوق کے کارکنوں کی موجودگی کو فلسطینی کسانوں کے لیے اخلاقی اور عملی حمایت کا ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ رضاکاروں کی کوشش تھی کہ وہ فصل کی کٹائی کے دوران کسانوں کے ساتھ موجود رہیں تاکہ آبادکاروں کی جانب سے ممکنہ حملوں اور ہراسانی کے واقعات کو روکا جاسکے۔
دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے گرفتار غیر ملکی کارکنوں کے خلاف کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں امن عامہ میں خلل ڈالنے کے شبہے میں حراست میں لیا گیا تھا، تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بعض کارکن اسرائیل مخالف ذرائع ابلاغ کی مہم چلانے کا ارادہ رکھتے تھے،گرفتار کارکنوں میں سے بعض بائیکاٹ، ڈیویسٹمنٹ اینڈ سینکشنز (بی ڈی ایس) تحریک کے حامی ہیں۔
فلسطینی کارکنوں کی تنظیم فضاعہ کے مطابق اس کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 17 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں 12 غیر ملکی رضاکار، 2 غیر ملکی صحافی اور 3 فلسطینی شہری شامل تھے۔ تنظیم کی جانب سے گرفتاریوں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد اس کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
اسرائیلی حکام نے غیر ملکی کارکنوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ زیر حراست فلسطینی شہریوں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں فلسطینی کسانوں کی مدد کے لیے آنے والے غیر ملکی رضاکاروں کی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی کاشت فلسطینی معیشت اور دیہی آبادی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ہزاروں خاندانوں کا روزگار اس فصل سے وابستہ ہے، لیکن اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں، زرعی اراضی پر قبضوں اور زمینوں تک رسائی میں رکاوٹوں کے باعث کسانوں کو ہر سال مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زیتون کی فصل کی کٹائی کے موسم میں ان واقعات میں اضافے کے باعث فلسطینی کسانوں کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جسارت