اتوار، 8 نومبر، 2026 · 29 جمادی الاول، 1448 ہجری

ملک میں 12 انتظامی یونٹس بنانے پر غور ہونا چاہیے، اختیارات بڑے شہروں تک محدود نہ رہیں، وفاقی وزیر دفاع

قومی خبریں
ملک میں 12 انتظامی یونٹس بنانے پر غور ہونا چاہیے، اختیارات بڑے شہروں تک محدود نہ رہیں، وفاقی وزیر دفاع

اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک میں نئے انتظامی یونٹس تشکیل دینے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں بھی انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس بنائے جانے چاہئیں، اگر 12 یونٹس بنانے کی تجویز ہے تو 12 ہی بنا لیے جائیں، ان کی تشکیل میں زبان، نسل یا سیاسی مفادات کو بنیاد نہیں بنانا چاہیے، ملک کی آبادی میں بہت زیادہ اضافہ ہوچکا ہے اور موجودہ انتظامی ڈھانچے میں عوام کو مطلوبہ سہولیات کی فراہمی کے لیے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ضروری ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ ملک میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل کی تجویز گزشتہ 2 ماہ سے زیر بحث ہے۔ ان کے خیال میں پاکستان میں بھی انتظامی یونٹس قائم کیے جانے چاہئیں کیونکہ دنیا کے متعدد ممالک میں انتظامی ضروریات اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے اس نوعیت کا نظام موجود ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اگر ملک میں 12 انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز سامنے آئی ہے تو اس پر عمل کیا جاسکتا ہے، ضروری ہے کہ ان یونٹس کی تشکیل کسی لسانی، نسلی یا سیاسی بنیاد پر نہ ہو بلکہ اس کا مقصد انتظامی امور کو بہتر بنانا اور عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کرنا ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں غیر معمولی اضافہ ہوچکا ہے، جس کے باعث موجودہ انتظامی نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ لوگوں کو تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ انتظامی ڈھانچے کو عوامی ضروریات کے مطابق بنایا جائے اور اختیارات کو چند بڑے شہروں تک محدود رکھنے کے بجائے مختلف علاقوں تک منتقل کیا جائے۔

وفاقی وزیر دفاع نے افغانستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں پہلے 8 سے 10 صوبے تھے، جنہیں تقسیم کرکے 30 سے 32 صوبوں میں تبدیل کردیا گیا۔ اس طرح انتظامی اکائیوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا تاکہ حکومتی امور کو زیادہ مؤثر انداز میں چلایا جاسکے، پاکستان میں بھی اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

خواجہ آصف نے تجویز دی کہ صوبائی دارالحکومتوں میں جمع اختیارات کو نئے انتظامی یونٹس میں منتقل کیا جانا چاہیے تاکہ لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور جیسے بڑے شہروں میں طاقت اور وسائل کا ارتکاز ختم ہوسکے، اختیارات کی تقسیم سے دیگر علاقوں کو بھی ترقی کے یکساں مواقع میسر آسکتے ہیں اور عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے طویل فاصلے طے کرکے صوبائی دارالحکومتوں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔

وفاقی وزیر دفاع نے فنڈز کی تقسیم اور بلدیاتی نظام کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ مرکز سے صوبوں کو منتقل کیے جانے والے فنڈز اکثر صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم پر رہ جاتے ہیں حالانکہ ان وسائل کی اصل منزل بلدیاتی ادارے ہونے چاہئیں۔ بلدیاتی ادارے عوام کے قریب ترین حکومتی سطح ہیں اور انہیں بااختیار بنائے بغیر نچلی سطح پر مسائل حل کرنا ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی ادارے بھی صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اور انہیں مالی و انتظامی اختیارات مکمل طور پر حاصل نہیں ہوتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فنڈز اور اختیارات کی منتقلی کا ایسا نظام بنایا جائے جس کے تحت مقامی نمائندے اپنے علاقوں کی ضروریات کے مطابق ترقیاتی منصوبے شروع کرسکیں۔

خواجہ آصف نے سیاست دانوں پر زور دیا کہ وہ اختیارات کو ذاتی یا سیاسی مفاد کے بجائے عوام کی امانت سمجھیں، سیاست دانوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ طاقت عوام کی امانت ہے، لیکن بدقسمتی سے سیاست دانوں کا عمومی نقطہ نظر یہ ہوتا ہے کہ تمام اختیارات اپنے پاس رکھے جائیں اور انہیں خود استعمال کیا جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ انتظامی یونٹس کی تشکیل کا بنیادی مقصد اختیارات کی منصفانہ تقسیم، بہتر حکمرانی، وسائل کی مؤثر فراہمی اور عوامی مسائل کا فوری حل ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی مفادات کے حصول کے لیے نئے انتظامی تنازعات کو جنم دینا۔

بشکریہ روزنامہ جسارت