اتوار، 8 نومبر، 2026 · 29 جمادی الاول، 1448 ہجری

جلنے پر ٹوتھ پیسٹ لگانا کتنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے؟

قومی خبریں
جلنے پر ٹوتھ پیسٹ لگانا کتنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے؟

جلد کے جل جانے کی صورت میں فوری آرام حاصل کرنے کے لیے لوگ اکثر مختلف گھریلو نسخے آزمانے لگتے ہیں، تاہم یہ تدابیر بعض اوقات زخم کی شدت کم کرنے کے بجائے مزید پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہیں۔

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جلی ہوئی جلد پر ٹوتھ پیسٹ، برف، گھی، مکھن، کھانا پکانے کا تیل یا ہلدی لگانے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ ان اشیا کا استعمال متاثرہ جلد کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جلنے کے فوری بعد درست ابتدائی طبی امداد فراہم کرنا انتہائی اہم ہے۔ غلط طریقہ اختیار کرنے سے نہ صرف جلد کی جلن میں اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ زخم میں جراثیم داخل ہونے اور انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ٹوتھ پیسٹ اور چکنائی والی اشیا زخم کو مزید متاثر کرسکتی ہیں

بھارتی شہر کولکتہ کے سی کے برلا اسپتال سے وابستہ پلاسٹک اور تعمیرِ نو کی جراحی کے ماہر ڈاکٹر انوپم گولاش کے مطابق بعض افراد جلی ہوئی جلد پر ٹوتھ پیسٹ لگاتے ہیں، کیونکہ اس سے انہیں فوری طور پر ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے، لیکن یہ تاثر درست نہیں اور اس عمل سے جلد کی حالت مزید خراب ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ٹوتھ پیسٹ میں شامل کیمیائی اجزا اور خوشبو جلد کے پہلے سے متاثرہ حصے میں جلن بڑھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ زخم پر جراثیم کی منتقلی کا خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے، جبکہ ٹوتھ پیسٹ کی تہہ موجود ہونے کی وجہ سے معالج کے لیے زخم کی گہرائی اور اصل نوعیت کا تعین کرنا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔

اسی طرح جلی ہوئی جگہ پر گھی، مکھن یا کھانا پکانے کا تیل لگانا بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ چکنائی والی اشیا جلد کی سطح پر تہہ بنا دیتی ہیں، جس کے باعث متاثرہ حصے کی حرارت باہر نکلنے کے بجائے اندر برقرار رہ سکتی ہے اور جلنے کے اثرات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

برف سے ٹھنڈک پہنچانے کی کوشش بھی نقصان کا باعث بن سکتی ہے

جلنے کے فوراً بعد درد اور جلن سے نجات کے لیے بعض افراد متاثرہ حصے پر برف رکھ دیتے ہیں، تاہم ماہرین اس طریقے کو بھی غیر محفوظ قرار دیتے ہیں۔

ڈاکٹر انوپم گولاش کے مطابق براہ راست برف لگانے سے وقتی طور پر درد کی شدت کم محسوس ہوسکتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں جلد کی خون کی روانی متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس طرح پہلے ہی حرارت سے متاثرہ جلد کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے برف یا انتہائی ٹھنڈے پانی کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے۔

جلد جل جائے تو فوری طور پر یہ طریقہ اختیار کریں

طبی ماہرین کے مطابق جلنے کی صورت میں سب سے مؤثر ابتدائی اقدام متاثرہ جگہ کو تقریباً 20 منٹ تک ٹھنڈے اور بہتے ہوئے پانی کے نیچے رکھنا ہے۔ اس عمل سے جلد میں موجود اضافی حرارت خارج ہونے میں مدد ملتی ہے، جس سے جلنے کا عمل مزید آگے بڑھنے سے رک سکتا ہے اور درد کی شدت بھی کم ہوتی ہے۔

تاہم اس مقصد کے لیے برف یا انتہائی سرد پانی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ متاثرہ حصے کو پانی سے ٹھنڈا کرنے کے بعد صاف، نرم اور جراثیم سے پاک کپڑے یا ایسی پٹی سے ڈھانپنا چاہیے جو زخم کے ساتھ چپکے نہیں۔ اس طرح زخم کو بیرونی آلودگی سے محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

چھالے پھوڑنے اور جلی ہوئی جلد اتارنے سے گریز کریں

جلنے کے نتیجے میں جلد پر پانی سے بھرے چھالے بننا عام بات ہے، تاہم انہیں خود سے پھوڑنا یا ان کے اندر موجود پانی نکالنے کی کوشش کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر انوپم گولاش کے مطابق چھالے کی بیرونی تہہ نیچے موجود نئی اور حساس جلد کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اگر اسے پھاڑ دیا جائے تو متاثرہ حصے میں جراثیم داخل ہونے اور انفیکشن پھیلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح جلی ہوئی جلد کو زبردستی کھینچ کر اتارنے سے بھی مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ماہرین نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ اگر آگ یا حرارت کے باعث کپڑا جلد کے ساتھ چپک جائے تو اسے خود سے کھینچ کر الگ نہ کیا جائے، کیونکہ اس کوشش میں جلد کی مزید تہیں متاثر ہوسکتی ہیں۔

جسم کے حساس حصوں پر جلنے کی صورت میں فوری طبی امداد ضروری

طبی ماہرین کے مطابق جلنے والے زخم کی شدت کا اندازہ صرف اس کی ظاہری حالت دیکھ کر لگانا درست نہیں، کیونکہ بعض اوقات نقصان کی اصل نوعیت ابتدائی چند گھنٹوں میں واضح نہیں ہوتی۔

معمولی جلنے کی صورت میں جلد پر سرخی اور درد ہوسکتا ہے، جبکہ زیادہ گہرے زخموں میں چھالے پڑنے، سوجن، جلد سن ہونے اور اندرونی بافتوں کے متاثر ہونے جیسی علامات بھی سامنے آسکتی ہیں۔ بعض زخموں کی شدت وقت گزرنے کے ساتھ واضح ہوتی ہے، اس لیے انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

اگر جلنے کا زخم چہرے، ہاتھوں، پاؤں یا جوڑوں پر ہو تو فوری طور پر طبی معائنہ کروانا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ بڑے رقبے پر پھیلے ہوئے، گہرے یا چھالوں والے زخموں کی صورت میں بھی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جلنے کے حادثے کے بعد فوری ردعمل میں غیر مستند گھریلو نسخوں پر انحصار کرنے کے بجائے طبی اصولوں کے مطابق ابتدائی امداد فراہم کرنا زیادہ اہم ہے۔ بروقت متاثرہ جلد کو بہتے پانی سے ٹھنڈا کرنا، زخم کو صاف طریقے سے ڈھانپنا اور ضرورت کے مطابق طبی مدد حاصل کرنا سنگین پیچیدگیوں کے امکانات کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت