اتوار، 8 نومبر، 2026 · 29 جمادی الاول، 1448 ہجری

ٹیسٹ میں نوجوانوں اور تجربہ کار کھلاڑیوں کے کمبینیشن کے ساتھ جائیں گے: بابر اعظم

قومی خبریں
ٹیسٹ میں نوجوانوں اور تجربہ کار کھلاڑیوں کے کمبینیشن کے ساتھ جائیں گے: بابر اعظم

پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ آئندہ ٹیسٹ مقابلوں میں نوجوان اور سینئر کھلاڑیوں کے امتزاج کے ساتھ میدان میں اتریں گے، جبکہ ٹیم میں نوجوان کرکٹرز کو شامل کرنے کا فیصلہ پہلے ہی انگلینڈ میں کرلیا گیا تھا۔

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعظم کا کہنا تھا کہ قومی ٹیسٹ ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کی موجودگی کے حوالے سے مختلف سوالات کیے جارہے ہیں، تاہم یہ فیصلہ اچانک نہیں کیا گیا بلکہ انگلینڈ میں ہی نوجوان کرکٹرز کو موقع دینے کی حکمت عملی طے کرلی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں آنے والی تبدیلیاں سب کے سامنے ہیں اور موجودہ اسکواڈ میں 7 سے 8 کھلاڑی نوجوان ہیں۔ یہ کرکٹرز فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل کر قومی ٹیم کا حصہ بنے ہیں اور اچھی فارم میں بھی ہیں۔ ٹیم کو آگے لے جانے کے لیے تجربہ کار اور کم عمر کھلاڑیوں کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے گا۔

اپنی کارکردگی کے حوالے سے قومی کپتان نے اعتراف کیا کہ کوئی بھی کھلاڑی مکمل نہیں ہوتا اور ہر سطح پر بہتری کی گنجائش موجود رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی خامیوں کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور مسلسل کھیلنے کے تجربے سے ان کی کارکردگی میں مزید نکھار آئے گا۔

بابر اعظم کے مطابق کرکٹ میں ہر روز ایک جیسی کارکردگی دکھانا ممکن نہیں، کبھی کھلاڑی کامیاب رہتا ہے اور کبھی توقعات کے مطابق کھیل پیش نہیں کرپاتا، اسی طرح ہر میچ میں غلطیاں بھی ایک جیسی نہیں ہوتیں، اس لیے اپنی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لینا ضروری ہے۔

ٹیسٹ کپتان نے مزید کہا کہ ٹیم کے انتخاب یا دیگر معاملات میں جہاں ان کی رائے ضروری ہوتی ہے، وہ سلیکٹرز کے سامنے اپنا مؤقف ضرور رکھتے ہیں۔ ان کے لیے ہر سیریز اہمیت رکھتی ہے اور وہ ہر مقابلے میں قومی ٹیم کو کامیابی دلانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک سینئر کھلاڑی کی حیثیت سے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں۔ انہیں اندازہ ہے کہ شائقین کرکٹ ان کی اچھی کارکردگی کے منتظر ہیں اور وہ بھی میدان میں بہتر کھیل پیش کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

محمد یوسف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم نے انہیں پاکستان کرکٹ کا عظیم کھلاڑی اور لیجنڈ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاحال محمد یوسف سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہوا، تاہم اگر وہ رابطہ کریں گے تو ان سے ضرور سیکھنے کی کوشش کریں گے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت