اتوار، 8 نومبر، 2026 · 29 جمادی الاول، 1448 ہجری

نیتن یاہوکو دھچکا: اسرائیل میں سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کو حکومت سازی کی دعوت

قومی خبریں

تل ابیب: اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی سرگرمیاں اہم مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں۔

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے سابق فوجی سربراہ اور اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کو نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جسے طویل عرصے سے اقتدار میں موجود وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ہرزوگ نے ہفتے کے روز آئزن کوٹ کو آگاہ کیا کہ انہیں حکومت بنانے کا پہلا موقع دیا جائے گا۔ وہ اتوار 8 نومبر کو باضابطہ طور پر حکومت سازی کا مینڈیٹ حاصل کریں گے۔ انہیں حکومت تشکیل دینے کے لیے 28 دن ملیں گے، جبکہ صدر ضرورت پڑنے پر مزید 14 دن کی توسیع بھی دے سکتے ہیں۔

اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کے بعد کسی بھی سیاسی اتحاد کو پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل نہیں ہوسکی۔ 120 رکنی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہے۔ نیتن یاہو کے مذہبی اور قوم پرست جماعتوں پر مشتمل اتحاد نے 53 نشستیں حاصل کیں، جبکہ آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں ملیں۔ عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں۔

صدر اسحاق ہرزوگ کے مطابق پارلیمانی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے دوران 67 ارکان نے آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی سفارش کی، جبکہ 46 ارکان نے نیتن یاہو کی حمایت کی۔ سات ارکان نے کسی امیدوار کی سفارش نہیں کی۔

آئزنکوٹ کی جماعت یاشر اور اس کے اتحادیوں کو حکومت بنانے کے لیے مزید ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ اس سلسلے میں عرب جماعتوں کی حمایت اہم سمجھی جا رہی ہے، تاہم آئزن کوٹ ماضی میں عرب جماعتوں کو حکومتی اتحاد میں شامل کرنے سے متعلق تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔ دوسری جانب انتہائی مذہبی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے امکانات پر بھی بات چیت جاری ہے۔

رائٹرز کے مطابق آئزنکوٹ کے سامنے ایک ممکنہ راستہ اقلیتی حکومت تشکیل دینا ہے، جسے عرب جماعتیں پارلیمان میں باہر سے حمایت فراہم کرسکتی ہیں۔ دوسرا امکان انتہائی مذہبی جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کا ہے، تاہم ان جماعتوں کے اپنے سیاسی مطالبات حکومت سازی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

گادی آئزنکوٹ سابق اسرائیلی فوجی سربراہ ہیں اور حالیہ انتخابات میں نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریف کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران نیتن یاہو کی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی اور نئی قومی حکومت کے قیام پر زور دیا تھا۔

بشکریہ روزنامہ جسارت