اتوار، 8 نومبر، 2026 · 29 جمادی الاول، 1448 ہجری

ایران کی مالی مدد کا الزام: کینیڈا کی 8 ڈیجیٹل کمپنیوں پر امریکا نے پابندیاں عائد کردیں

قومی خبریں

واشنگٹن: امریکا نے ایران سے متعلق مالی لین دین اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے رقوم کی منتقلی میں مبینہ معاونت کے الزام میں کینیڈا میں قائم 8 منی سروسز کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق امریکی دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) نے ان کمپنیوں کو ایران کے ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں سرگرم رہنے اور پابندیوں کا سامنا کرنے والے ایرانی اداروں کے ساتھ لین دین میں سہولت فراہم کرنے کے الزام میں پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ کمپنیاں ایرانی ریال اور دیگر کرنسیوں کو ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کرنے کی خدمات فراہم کرتی تھیں، جس کے ذریعے ایران سے بین الاقوامی سطح پر رقوم کی منتقلی ممکن بنائی جاتی تھی۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان میں سے متعدد کمپنیوں نے ایران کی پابندیوں کا شکار کرپٹو ایکسچینجز اور ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) سے منسلک ڈیجیٹل اثاثوں کے پتے کے ساتھ بھی لین دین کیا۔

پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں ڈیورس ٹریڈ انکارپوریشن، جو ملین ایکسچینج کے نام سے کام کرتی ہے، 1380079 بی سی لمیٹڈ، ٹاپ پی سی ٹیکنیشن انکارپوریشن، این آئی اے نیشنز کرنسی لمیٹڈ، 2397639 اونٹاریو لمیٹڈ المعروف فرح ایکسچینج، سی سی سی انکارپوریشن، بی گلیکسی انکارپوریشن اور ڈارویش ایکسچینج شامل ہیں۔ یہ کاروبار اونٹاریو اور برٹش کولمبیا میں قائم ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں کے نتیجے میں ان کمپنیوں کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد ہوں گے اور امریکی شہریوں یا اداروں کو ان کے ساتھ مخصوص مالی لین دین کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ اس اقدام سے متعلقہ کمپنیوں کی امریکی مالیاتی نظام اور ڈالر پر مبنی لین دین تک رسائی بھی متاثر ہوگی۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکا ایران سے متعلق پابندیوں سے بچنے کے لیے مالی سہولت فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کو دنیا کے کسی بھی حصے میں نشانہ بنائے گا۔ ان کے مطابق امریکا ایران کی مالی سرگرمیوں کے ذرائع کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ کارروائی کینیڈا کے مالیاتی انٹیلی جنس ادارے فِنٹریک اور امریکی مالیاتی جرائم سے متعلق اداروں کے تعاون سے کی گئی۔ محکمہ خزانہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پابندیوں کی زد میں آنے والی بعض کمپنیوں نے نگرانی سے بچنے کے لیے اپنے کاروباری نام اور پتے تبدیل کیے تھے۔

امریکی حکام کے مطابق ان میں سے بعض کمپنیوں کے روابط کینیڈا میں منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں پابندیوں کا سامنا کرنے والے ریان ویڈنگ سے بھی رہے ہیں، جن کے بارے میں امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے منشیات سے حاصل ہونے والی رقم کی منتقلی کے لیے ان کاروباری اداروں کی خدمات استعمال کیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران کے مالیاتی نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل اثاثوں کے ذریعے پابندیوں سے بچنے کی کوششوں کو روکنے کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت