کشمیر میں طاقت کا استعمال عاقبت نااندیشی ہے،سعد رفیق
اسلام آباد : پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ملک اور خطے میں مسائل کو حل کرنے کےلیے محض طاقت کے استعمال کی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور تمام فریقین سے مفاہمت اور گفت و شنید کا راستے اختیار کرنے کی اپیل کردی۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ عوامی مسائل، مطالبات اور احتجاجوں کو بات چیت کی بجائے طاقت کے ذریعے دبانے کی سوچ قوم کو ہمیشہ بے حد مہنگی پڑی ہے۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنے بیان میں خواجہ سعد رفیق نے اقتدار اور طاقت کی حقیقت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہر کسی کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیئے کہ ہر طاقت فانی ہے جب کہ سیاسی قبولیت ہو یا مقبولیت یہ سب عارضی چیزیں ہیں۔
حکومتیں اور اقتدار میں آنے والے افراد اپنے طے شدہ وقت کے بعد چلے جاتے ہیں، لیکن جو فیصلے وہ اس دوران کرتے ہیں ان کے اثرات ملک کے مستقبل پر گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔
سابق وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ طاقت کا غلط استعمال اور غیر سیاسی رویے قومی وحدت کے جسم پر ایسے زخم لگاتے ہیں جو دہائیوں تک رِستے رہتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ زہر آلود ہو جاتے ہیں۔
کشمیر میں طاقت کا استعمال نا عاقبت اندیشی اور حکمتِ عملی سے محرومی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماءکا کہنا ہے کہ طاقت کا متواتر استعمال مسئلے کا پائیدار حل ثابت نہیں ہو سکتا، اس لیے وہاں کے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔
قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پہل ہمیشہ سرکار ہی کو کرنا ہوتی ہے، حکومت آگے بڑھے اور کشیدگی کو ختم کرے۔
ملک اور عوام کا پہلے ہی بہت زیادہ نقصان ہو چکا لہٰذا اب مزید نقصان نہ کیا جائے اور گفت و شنید کے ذریعے مسائل کے حل کو یقینی بنایا جائے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت