اتوار، 8 نومبر، 2026 · 29 جمادی الاول، 1448 ہجری

کراچی بی آر ٹی منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کون کرے گا؟ جسارت کا گورنر سندھ سے سوال

قومی خبریں

لاہور (رپورٹ: عدیل مصطفی) کراچی کی تباہ حال شاہراہوں اور برسوں سے تاخیر کا شکار بی آر ٹی منصوبے پر گورنر سندھ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی ملک کو بھاری ٹیکس دیتا ہے، لیکن افسوس کہ اسے اس کے جائز حقوق نہیں مل رہے۔ انہوں نے بی آر ٹی منصوبوں کی تکمیل کے لیے لاہور، راولپنڈی اور ملتان کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ کرپشن کی روک تھام اور بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی متعلقہ اداروں کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے، انہیں اس سلسلے میں فوری حرکت میں آنا چاہیے۔

لاہور پریس کلب میں منعقدہ میٹ دی پریس پروگرام کے دوران روزنامہ جسارت کی جانب سے گورنر سندھ سے سوال کیا گیا کہ کراچی کی اہم شاہراہیں کئی برس سے ٹوٹ پھوٹ اور تعمیراتی مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ بی آر ٹی منصوبہ بھی غیر معمولی تاخیر سے دوچار ہے۔ منصوبے میں مبینہ کرپشن، انتظامی بے ضابطگیوں اور وزیراعلیٰ سندھ کے منصوبے کے سربراہ سے مبینہ تعلقات کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کی تحقیقات کب کرائی جائیں گی؟

گورنر سندھ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کراچی بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کی جائے پیدائش، پاکستان کا گیٹ وے اور ایک بڑا صنعتی و تجارتی شہر ہے۔ یہ شہر ملک کو بہت زیادہ ٹیکس دیتا ہے اور محصولات جمع کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن افسوس کہ اسے اس کے حقوق نہیں ملتے۔ ماضی میں جن لوگوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ کراچی کے مسائل حل کرتے اور اس کے حقوق ادا کرتے، وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرسکے۔

بی آر ٹی منصوبوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاہور، راولپنڈی اور ملتان کے منصوبوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہاں یہ منصوبے کس طرح مکمل کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپشن پکڑنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے اور انہیں کسی کے حکم کے بجائے آئین اور قانون کے تحت کارروائی کرنی چاہیے۔ قانون نے ان اداروں کو اختیار دیا ہے کہ جو بھی غلط کام کرے اسے قانون کی گرفت میں لایا جائے، اس لیے انہیں فوری طور پر حرکت میں آنا چاہیے۔

گورنر سندھ نے سرکاری اداروں میں گھوسٹ ملازمین اور بدعنوانی کو بھی اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ ہمارے خواب چرا گئے ہیں۔ ایک عام شہری کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بچہ تعلیم حاصل کرکے خوشحال زندگی گزارے، لیکن اگر اسکولوں میں گھوسٹ اساتذہ ہوں گے تو بچوں کو تعلیم کون دے گا؟ اسی طرح گھوسٹ بلدیاتی ملازمین، مالی اور ڈاکٹر بھرتی ہوں گے تو شہریوں کو بنیادی سہولتیں کیسے فراہم ہوں گی؟

انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ گھوسٹ ملازمین کی بھرتیوں کی نشاندہی کرے اور یہ بھی سامنے لائے کہ یہ بھرتیاں کب، کہاں اور کس کے دور میں ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بااثر اور بااختیار عہدوں پر فائز افراد کے دور میں ہونے والی غلطیوں کی بھی نشاندہی ہونی چاہیے تاکہ ذمہ داروں کو بتایا جاسکے کہ یہ سب ان کے دور میں ہوا۔

گورنر سندھ نے الیکٹرانک میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا ماضی میں سماجی برائیوں کو اجاگر کرنے میں مؤثر کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اگر متعلقہ ذمہ داروں کو مسائل کی نشاندہی کے باوجود وہ انہیں حل نہیں کرتے تو یہ آئین، معاشرے اور اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔

واضح رہے کہ روزنامہ جسارت نے کراچی کے بی آر ٹی منصوبے میں غیر معمولی تاخیر، مبینہ کرپشن، ڈیزائن میں بار بار تبدیلیوں اور انتظامی بے ضابطگیوں کے حوالے سے دستاویزات کی بنیاد پر خصوصی تحقیقی رپورٹ شائع کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق تعمیراتی کام مکمل ڈیزائن فراہم کیے بغیر شروع کردیا گیا تھا اور معاہدے کی مدت ختم ہونے تک کنٹریکٹر کو تمام 16 اسٹیشنوں کے مکمل ڈیزائن بھی فراہم نہیں کیے جاسکے تھے، جس کے باعث منصوبے کے کام میں مسلسل تاخیر ہوتی رہی۔

بشکریہ روزنامہ جسارت