ایل پی جی مافیا بے قابو، ملک بھر میں من مانے نرخوں پر فروخت جاری

ملک میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں پر قابو پانے کے حکومتی دعوے تاحال عملی شکل اختیار نہیں کرسکے، مختلف شہروں میں مقررہ نرخوں کے بجائے من پسند قیمتوں پر گیس کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی کی فی کلو قیمتوں میں نمایاں فرق دیکھا جارہا ہے۔ کوئٹہ اور گردونواح میں گیس 570 سے 650 روپے فی کلو تک فروخت ہورہی ہے جبکہ لاہور، راولپنڈی، ملتان اور سرگودھا میں اس کے نرخ 550 سے 600 روپے فی کلو کے درمیان ہیں۔
اسی طرح کراچی میں ایل پی جی 530 سے 580 روپے فی کلو میں دستیاب ہے جبکہ گھوٹکی میں صارفین کو ایک کلو گیس کے حصول کے لیے 600 روپے ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ مختلف شہروں میں قیمتوں کے اس فرق نے حکومتی نگرانی اور نرخوں پر عمل درآمد کے نظام پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
دوسری جانب حکومت نے ایل پی جی کی قیمتوں میں استحکام لانے اور اس کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کے لیے مقامی پیداوار کی 90 فیصد مقدار کی شفاف نیلامی کا فیصلہ کیا ہے۔
نئے طریقہ کار کے تحت مقامی ایل پی جی پیدا کرنے والے اداروں کی مجموعی پیداوار کا 10 فیصد سرکاری مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے مختص کیا جائے گا جبکہ باقی 90 فیصد گیس کی نیلامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی موجودگی میں کی جائے گی۔
حکومتی فیصلے کے مطابق نیلامی کے عمل میں شریک کسی بھی کمپنی کو روزانہ زیادہ سے زیادہ 20 میٹرک ٹن ایل پی جی حاصل کرنے کی اجازت ہوگی، تاکہ گیس کی دستیابی اور تقسیم کے عمل میں چند کمپنیوں کی اجارہ داری قائم نہ ہوسکے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی نیلامی کے لیے متعارف کرایا جانے والا نیا نظام منصفانہ تقسیم، رسد کے نظام کو مستحکم بنانے اور ملک میں توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
ان کے مطابق حکومت کی بنیادی ترجیح صارفین کو مناسب نرخوں پر ایل پی جی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے مقامی سطح پر گیس کی روزانہ پیداوار کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے گی اور اس حوالے سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار وزیراعظم کو پیش کیے جائیں گے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت