سندھی مسلم سوسائٹی فوڈ واک سوشل میڈیا صارفین کی زد میں،پی پی اور سندھ حکومت پر شدید تنقید

کراچی؛ پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے چنیسر ٹاؤن کے چیئرمین فرحان غنی نے 25 کروڑ روپے کی لاگت سےسندھی مسلم فوڈ واک ، جس کا حال ہی میں یکم نومبر 2026 کو افتتاح کیا گیا تھا، افتتاحی کے فورا بعد سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔
فوڈ واک کے افتتاح کے چند روز بعد ہی (4 نومبر 2026 کی رات) موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے ایک شہری سلال سے 7 لاکھ روپے مالیت کا قیمتی موبائل فون چھین لیا ، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔سوشل میڈیا پر یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ فوڈ اسٹریٹ پر آنے والے شہریوں سے کرسیوں پر بیٹھنےکے نام پر مبینہ طور پر 600 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔بعض دکانداروں کی جانب سے کے ایم سی (KMC) فیس کے نام پر من مانے پیسے لینے کی شکایات بھی سامنے آئیں ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیوٹر(ایکس)اور فیس بک پرصارفین پیپلز پارٹی ، سندھ حکومت اور چنیسر ٹاون کو شدید تنقید کا نشانا بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا ٹیوٹر (ایکس) پرامبرین دانش نامی صارفہ نے لکھا کہ جب تک کراچی کو شہریوں کیلئے محفوظ نہیں بنائیں گے، یہاں سڑکوں پر کسی قسم کی کوئی تفریح ممکن نہیں ہے۔سندھی مسلم فوڈ اسٹریٹ لھلنے کے چھ دن کے اندر پانچ سے چھ موبائیل چھننے کے واقعات ہو چکے ہیں۔ بوٹ بیسن فوڈ اسٹریٹ پر فٹ پاتھ کے ساتھ، مئیر صاحب نے فری انٹرنیٹ زون بنایا تھا جہاں بیٹھ کر لوگ فری وائی فائی استعمال کر سکتے ہیں، وہ جگہ اب کتوں کی آرام گاہ ہے، کیونکہ وہاں بیٹھ کراپنا لاکھوں کا فون کون گنوائے گا؟۔
سندھ حکومت صرف ایک کامُ کرلے، نہیں بنائے سڑکیں، BRT, K4, بس اس شہر کو ڈاکووں سے نجات دلائے۔ اور یہ بھی نہیں ہوتا تو، کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہےکچھ کر نہیں سکتے تو اُتر کیوں نہیں جاتے؟چھ دن ہوئے ہیں سندھی مسلم فوڈ اسٹریٹ کھلے، آپ چھ دن بھی جہاں خود فیتہ کاٹ کر گئے تھے وہاں امن قائم نہ کرسکے؟ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جب تک سڑکوں پر لوگ خود کو محفوظ نہیں سمجیں گے، ایسی کوئی فوڈ اسٹریٹ اب کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ کراچی کے حالات بہت بگڑ چکے ہیں، دو منٹ سڑک پر کھڑے ے ہوں ڈاکو لوٹ کر چلے جاتے ہیں، مزاحمت کرو تو گولی مار دیتے ہیں۔ پہلے شہر کو محفوظ بنائیں۔ ورنہ چند ہزار کا کھانا کھانے کے چکر میں لاکھوں کا نقصان کون کرنا چاہے گا؟۔
حسن کاظمی نے ٹیوٹر پر لکھا کہ سندھی مسلم فوڈ اسٹریٹ اصل میں پیپلزپارٹی کی جانب سے 600 روپے بھتہ لینے کے لیے بنائی گئی ہے۔سید انوار اللہ حسینی نے لکھا کہ سندھی مسلم فوڈ اسٹریٹ پر تشریف لائیں اپنا موبائل ڈاکووں کے ہاتھوں چھنوائیں کھایا نا پیا گلاس ٹوڑے بارہ آنے،ارسلان صدیقی نے لکھا کہ سندھی مسلم فوڈ اسٹرئٹ کا مکمل بایکایٹ کیا جائے پولیس کے ہوتے دیکتیاں استریٹ کرایم ہو رہے ہیں۔پہلے پارکنگ کافی دور ہے گاڑئ یا موٹر سایکل کے داخلے کی اجازات نہیں پیدل چلو تو سندھ حکومت کئ سرپرسٹی میں ڈیکت واردات کر رہے ہیں اسلئے فوڈ اسٹریٹ کا عوام مکمل بایکایٹ کریں۔
عاصمہ سلطان نے لکھا کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے اس فوڈ واک آسٹریٹ کو کھلے ہوئے سندھی مسلم سوسائٹی میں اور کام میں آسانی شروع ہو گئی ۔ٹیو ٹر پرعاصم شیخ نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ سندھی مسلم پر قائم سندھی مسلم فوڈ والک میں مبینہ واردات پر نوجوان نے شہریوں سے اپنی حفاظت کا انتظام اور بندوبست کرنے کا مشورہ دے دیا ہے۔
دانیال احمد نے اپنے ٹیوٹر اکاونٹ پر لکھا کہ چنیسر ٹاؤن نے 25 کروڑ روپے کی لاگت سے سندھی مسلم فوڈ واک قائم کر کے سڑک کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا ہے۔ جس سے علاقہ مکین عذاب میں مبتلا ہو گئے ہیں، فوڈ واک آنے والی گاڑیوں کو قریبی رہائشی گلیوں میں پارک کیا جا رہا ہے۔ٹریفک جام نے لو گوں کو پریشان کر دیا ہے، اس مسئلے کو سٹی کونسل میں اٹھایاجائے۔کراچی کی نئی تعمیر شدہ سندھی مسلم فوڈ واک پر ریسٹورنٹ سے کھانا یا مشروبات آرڈر کیے بغیر کرسیوں پر بیٹھنے کے 600 روپے وصول کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
بلال علیم نے ٹیوٹر پر لکھا کہ سندھی مسلم فوڈ اسٹریٹ یا ڈاکوؤں کا نیا اڈا ! چنیسر ٹاؤن نے ایک سندھی مسلم فوڈ واک بنا کر ڈاکوؤں کے لئے لوٹ مار کا اڈا فراہم کردیا شہری سے موبائل فون چھین لیا گیا ۔عوام کی جان و مال کا تحفظ سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ٹیوٹر پر ٹریفک پویس نے لکھا ہے کہ کراچی میں سندھی مسلم سوسائٹی روڈ کو فوڈ اسٹریٹ میں تبدیل کر دیا گیا ہے جس کے باعث سندھی مسلم سوسائٹی روڈ ٹریفک کے لئے بند ہو گی، ٹریفک پولیس حکام نے شاہراہ فیصل سے سندھی مسلم سوسائٹی سے طارق روڈ جانے والی ٹریفک کے لئے متبادل راستوں کا اعلان کر دیا ہے۔ٹریفک پولیس کے مطابق شاہراہ فیصل سے طارق روڈ جانے والی ٹریفک مزاج ریسٹورنٹ کی پچھلی گلی اندرون علاقہ لاشاری اسٹریٹ کا راستہ اختیار کرکے اپنی منزل کی جانب جا سکیں گے۔ اسی طرح شاہراہ قائدین کا راستہ اختیار کرکے طارق روڈ سے اپنی منزل کی جانب جا سکیں گے۔
شاہراہ قائدین (طارق روڈ) سے مزاج ریسٹورنٹ شاہراہ فیصل کی جانب جانے کیلئے طارق روڈ سگنل سے اندرون علاقہ مسجد طیبہ اسٹریٹ کا راستہ اختیار کرکے اپنی منزل کی جانب جا سکیں گے۔
واضح رہے کہ کراچی کی سندھی مسلم فوڈ اسٹریٹ کا افتتاح 1نومبر کو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کیا۔ مقصد شہریوں کو ایک خوبصورت تفریحی مقام فراہم کرنا تھا، لیکن افتتاح کے چند روز بعد ہی اس منصوبے کے انتظامات پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ بعض شہریوں نے شکایت کی ہے کہ ریسٹورنٹ میں صرف بیٹھنے اور کھانا نہ کھانے پر 600 روپے طلب کیے جاتے ہیں۔ ایک ملازم نے اسے بلدیاتی اخراجات سے منسوب کیا، تاہم چنیسر ٹاؤن میونسپل کارپوریشن نے ایسی سرکاری فیس کی تردید کی ہے۔ تاجروں نے اشتہاری بورڈز کے معاہدوں اور مبینہ دباؤ سے متعلق شکایات کی ہیں۔مقامی رہائشیوں نے ٹریفک، پارکنگ اور آمدورفت کی مشکلات پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
دوسری طرف منصوبے کے آپریشن، صفائی، سکیورٹی، پارکنگ اور اشتہاری حقوق کے لیے نجی آپریٹنگ پارٹنر کی خدمات حاصل کرنے کا ٹینڈر بھی سامنے آیا تھا۔ 600 روپے کس اختیار کے تحت مانگے جا رہے ہیں؟فوڈ اسٹریٹ کا آپریشن کس کمپنی کے حوالے ہے اور معاہدے کی شرائط کیا ہیں؟شہریوں کی سکیورٹی اور پارکنگ کا ذمہ دار کون ہے؟ اشتہارات اور دیگر آمدنی کا حساب عوام کے سامنے کیوں نہ رکھا جائے؟ہم ترقیاتی منصوبوں کے مخالف نہیں، لیکن عوامی منصوبوں میں شفافیت، تحفظ اور جواب دہی لازمی ہے۔ کیا کراچی میں عوام کے لیے بننے والے تفریحی مقامات واقعی عوام کی سہولت کے لیے ہیں یا افتتاح کے بعد شہریوں کے لیے نئی پریشانیوں کا سبب بن رہے ہیں؟سندھ حکومت، KMC اور چنیسر ٹاؤن انتظامیہ ان شکایات کی شفاف تحقیقات کرکے حقائق عوام کے سامنے لائیں۔
بشکریہ روزنامہ جسارت