یہ سسٹم جب سے آیا ہے اس کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی ہے: علامہ ناصر عباس

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام کی بنیاد ہی ٹیڑھی رکھی گئی ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرکے عوام کو بتایا گیا کہ ان کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے بتایا کہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کی حتمی تاریخ کمیٹی باہمی مشاورت سے طے کرے گی۔ کامران مرتضیٰ، ناصر شیرازی اور سلمان اکرم راجا کمیٹی کا حصہ ہوں گے، جبکہ عامر ڈوگر اور مصطفیٰ نواز کھوکھر بھی اس میں شامل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اے پی سی کے لیے اخوانزادہ حسین یوسفزئی اور خالد یوسف چوہدری رابطہ کار ہوں گے۔
علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کو خطرات لاحق ہیں اور حکومت تمام حدیں پار کرچکی ہے۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا بلڈ پریشر معمول پر نہیں آرہا، جو تکلیف دہ صورت حال ہے۔
ادھر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ ملک کی تمام پالیسیاں پارلیمنٹ میں تشکیل دی جائیں۔
دوسری جانب سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اب محض شکوک و شبہات نہیں بلکہ یہ یقین پیدا ہو رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے صورت حال ٹھیک نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اے پی سی قومی اتفاق رائے کی جانب پہلا قدم ثابت ہوگی، جس میں پی ٹی آئی اور جمعیت علمائے اسلام ایک ساتھ بیٹھیں گی، جبکہ کمیٹی آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔
سلمان اکرم راجا کے مطابق ملک بھر کی تمام قوتوں کو آئین کے تحفظ کے لیے آگے بڑھنے کی دعوت دی جائے گی۔
بشکریہ روزنامہ جسارت