سندھ کی بیشتر آبادی غربت کی لکیر سے نیچے، حکومتی اخراجات میں ہوشربا اضافہ
کراچی: صوبہ سندھ میں آدھی سے زائد آبادی کثیرالجہتی غربت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے، جہاں عوام صحت، تعلیم اور خوراک جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
شدید معاشی بحران کے سبب صوبے بھر میں خودکشی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی رپورٹ کے مطابق صوبے کی نصف سے زیادہ آبادی بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ غربت کی شکار 71 فیصد آبادی کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے جو معاشی بدحالی کی شکار ہے۔
اس سنگین صورتحال کے برعکس صوبائی حکومت کے اخراجات میں کمی لانے کے بجائے ان میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ رواں مالی سال کے دوران سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ، اراکین، صوبائی وزراء اور معاونین خصوصی کے اخراجات کی مد میں تقریباً 5 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق سندھ اسمبلی کے لیے 2.84 ارب روپے رکھے گئے جن میں ایک ارب روپے سے زائد رقم نان سیلری اخراجات کے لیے مختص ہے۔ حیران کن طور پر گزشتہ برس بجٹ سے 431 ملین روپے اضافی خرچ کیے گئے، جس سے حکومتی مالیاتی نظم و ضبط پر سوالات اٹھتے ہیں۔
ان بھاری اخراجات کے علاوہ وزرا اور معاونین خصوصی کے لیے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کے تحت مزید 766 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پروٹوکول کی مد میں بھی 231 ملین روپے کا اضافی خرچ کیا جا رہا ہے، جبکہ تفریح کے لیے بھی کروڑوں روپے مختص ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے م طابق سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سندھ اسمبلی ان بااثر اداروں میں شامل ہے جن کے کھاتوں کا آڈٹ نہیں کیا جاتا۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے ان مالی معاملات کو کبھی زیر بحث نہیں لایا گیا اور نہ ہی کوئی جوابدہی کا موثر نظام قائم کیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق اس صورتحال پر جب سندھ اسمبلی کے سیکریٹری جی ایم عمر فاروق اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سیکریٹری حسن شاہ سے رابطہ کیا گیا تو دونوں حکام نے ان سوالات پر خاموشی اختیار کر لی اور کوئی بھی مؤقف دینے سے گریز کیا جس سے عوامی حلقوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت