بدھ، 4 نومبر، 2026 · 25 جمادی الاول، 1448 ہجری

مصنوعی ذہانت کی کمپنی انتھروپک میں ملازمین پر کتنی رقم خرچ ہوتی ہے؟

قومی خبریں

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے ترقی کرنے والی معروف امریکی کمپنی انتھروپک اپنے ملازمین پر خطیر رقم خرچ کررہی ہے، جس کا اندازہ کمپنی کی جانب سے جمع کرائی گئی تازہ مالی دستاویزات سے لگایا جاسکتا ہے۔ ان تفصیلات کے مطابق جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران کمپنی نے اپنے ملازمین سے متعلق اخراجات کی مد میں 1 ارب 71 کروڑ ڈالر سے زائد رقم خرچ کی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔

کمپنی کی جانب سے امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں جمع کرائی گئی دستاویز کے مطابق 2025 کی تیسری سہ ماہی میں ملازمین پر ہونے والے اخراجات 48 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھے، تاہم رواں سال اسی مدت میں یہ رقم بڑھ کر 1 ارب 71 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگئی۔

انتھروپک میں تقریباً 5300 افراد ملازمت کرتے ہیں۔ اس تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے تین ماہ کے دوران فی ملازم اوسط اخراجات تقریباً 3 لاکھ 22 ہزار ڈالر بنتے ہیں، جبکہ ماہانہ بنیاد پر یہ رقم تقریباً 1 لاکھ 7 ہزار ڈالر کے برابر ہے۔ بظاہر یہ رقم کسی ایک ملازم کی غیر معمولی تنخواہ محسوس ہوتی ہے، تاہم حقیقت میں یہ کمپنی کی جانب سے ملازمین پر کیے جانے والے مجموعی اخراجات کا اوسط ہے، نہ کہ ہر فرد کو ادا کی جانے والی ماہانہ تنخواہ۔

ان اخراجات میں بنیادی تنخواہوں کے علاوہ بونس، دیگر مراعات، ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق ٹیکس اور کمپنی کے حصص کی صورت میں دیے جانے والے انعامات بھی شامل ہیں۔ دستاویز کے مطابق مجموعی اخراجات میں سے تقریباً 1 ارب 10 کروڑ ڈالر حصص پر مبنی مراعات کی مد میں مختص کیے گئے۔

مالی اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انتھروپک اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ افرادی قوت پر خرچ کررہی ہے۔ رواں سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران کمپنی کی مجموعی آمدنی 4 ارب 80 کروڑ ڈالر رہی، جس کا تقریباً 15 فیصد حصہ ملازمین سے متعلق اخراجات پر صرف کیا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آمدنی کے لحاظ سے بھی انتھروپک فی ملازم غیر معمولی کارکردگی دکھا رہی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کمپنی کی فی ملازم اوسط ماہانہ آمدنی تقریباً 66 لاکھ ڈالر ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں میٹا کی فی ملازم اوسط آمدنی 32 لاکھ ڈالر اور گوگل کی 25 لاکھ ڈالر بتائی گئی ہے۔

اگرچہ انتھروپک نے اپنے ملازمین کی انفرادی تنخواہوں کی تفصیلات عام نہیں کیں، تاہم مالی دستاویزات میں ظاہر کیے گئے اخراجات سے اندازہ ہوتا ہے کہ کمپنی مصنوعی ذہانت کے شعبے کے ماہرین اور باصلاحیت افراد کو اپنے ساتھ منسلک رکھنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کررہی ہے۔ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے درمیان مصنوعی ذہانت کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی دوڑ نے بھی اس شعبے میں ملازمین کی اہمیت اور ان کے معاوضوں کو غیر معمولی بنا دیا ہے۔

واضح رہے کہ انتھروپک مستقبل قریب میں اسٹاک مارکیٹ میں اپنے حصص کی فہرست سازی کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی کی جانب سے تقریباً 1500 ارب ڈالر مالیت کے ساتھ اسٹاک مارکیٹ میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی عالمی صنعت میں اس کی مالی اور کاروباری اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت