سرنجز اسکینڈل: عباسی شہید اسپتال کے ایم ایس کو بچا کر ڈی ایم ایس اسٹور کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے زیر انتظام عباسی شہید اسپتال میں سندھ حکومت کی سرکاری مہر والی 10 ہزار چوری شدہ سرنجوں کی مبینہ خریداری کے معاملے میں ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اسٹور ڈاکٹر محمد طاہر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا جبکہ تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں حیران کن طور پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ساجد شیخ کو ذمہ داری سے بری قرار دے دیا۔ مزید یہ کہ تحقیقات مکمل ہونے سے قبل ہی انہیں کے ایم سی کے ماتحت تمام سرکاری اسپتالوں کی سربراہی سونپ دی گئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ منگل کو میونسپل کمشنر کی ٹیم نے عباسی شہید اسپتال میں کارروائی کرتے ہوئے 10 ہزار سرنجیں برآمد کی تھیں۔ ضبط شدہ سامان میں ایسی سرنجیں بھی شامل تھیں جنہیں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان نے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے استعمال اور فروخت کے لیے ممنوع قرار دیا تھا۔
تحقیقات کے دوران یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ برآمد ہونے والی سرنجوں پر سندھ حکومت کی سرکاری مہر ثبت تھی اور یہ صوبائی حکومت کے زیر انتظام اسپتالوں سے چوری کرکے عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی تھیں۔ حیران کن طور پر اسپتال انتظامیہ نے مبینہ طور پر چوری شدہ سرنجیں بھی مہنگے داموں خریدیں اور اس مقصد کے لیے باقاعدہ کوٹیشن جاری کیا گیا۔
اسپتال کے سرکاری ریکارڈ میں فی سرنج قیمت 34 روپے درج کی گئی، جو مارکیٹ میں دستیاب قیمت سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ برآمد شدہ سرنجوں میں وہ ممنوعہ سامان بھی شامل تھا جس کے حوالے سے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان نے 22 مئی 2026 کو الرٹ جاری کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ ان کے استعمال سے ایچ آئی وی پھیلنے کا خطرہ ہے۔
ریکارڈ کے مطابق عبداللہ انٹرپرائزز نامی کمپنی نے 8 اکتوبر کو سرنجوں کی سپلائی فراہم کی، جبکہ اگلے ہی روز 9 اکتوبر کو اسپتال کے اکاؤنٹس سے کمپنی کو 3 لاکھ 40 ہزار روپے کی ادائیگی کردی گئی۔ اس خریداری اور ادائیگی کے طریقہ کار نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر محمد طاہر نے 14 اکتوبر کو ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اسٹور کا عہدہ سنبھالا تھا، جبکہ سرنجوں کی خریداری کا آرڈر 6 اکتوبر کو جاری کیا گیا اور سامان 8 اکتوبر کو وصول کیا گیا۔ اس وقت اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور خریداری کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر ساجد شیخ تھے، جن کے دور میں خریداری کا عمل مکمل ہوا اور سرنجیں وصول کی گئیں۔
ذرائع کا مؤقف ہے کہ خریداری کا آرڈر جاری کرنے، سامان وصول کرنے اور اس کی ادائیگی کے وقت ڈاکٹر ساجد شیخ ہی متعلقہ انتظامی ذمہ داریوں پر فائز تھے، اس لیے اصل ذمہ داران کا تعین کرتے ہوئے ان کے کردار کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں تھیں۔
تاہم کے ایم سی کی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی متنازع رپورٹ میں ڈاکٹر ساجد شیخ کو ذمہ داری سے بری کردیا، جبکہ ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اسٹور ڈاکٹر محمد طاہر کو عہدے سے ہٹا کر کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ڈاکٹر ساجد شیخ کے خلاف کسی کارروائی کے بجائے انہیں تحقیقات کے دوران ہی ترقی دے کر سینئر میڈیکل ہیلتھ سروسز مقرر کردیا گیا اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ماتحت تمام سرکاری اسپتالوں کی سربراہی بھی ان کے سپرد کردی گئی۔
یوں 10 ہزار ممنوعہ اور مبینہ طور پر چوری شدہ سرنجوں کی خریداری کا معاملہ سنگین سوالات اٹھانے کے باوجود اصل انتظامی ذمہ داران کے تعین کے بغیر ہی ایک ماتحت افسر کی برطرفی تک محدود ہوگیا۔
بشکریہ روزنامہ جسارت