بدھ، 4 نومبر، 2026 · 25 جمادی الاول، 1448 ہجری

شکاگو یونیورسٹی کی تحقیق میں ہولناک پیش گوئی، ایل نینو سے لاکھوں جانیں خطرے میں

قومی خبریں

دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کے درمیان سائنسدانوں نے ایک غیرمعمولی موسمی خطرے سے خبردار کردیا ہے۔

سپر ایل نینو کے ممکنہ اثرات کے باعث آئندہ 10 ماہ کے دوران شدید گرمی سے دنیا بھر میں تقریباً 9 لاکھ اضافی اموات ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

موسمیاتی ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں غیرمعمولی اضافے سے انسانی صحت، خصوصاً گرم علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

شکاگو یونیورسٹی کی کلائمیٹ امپیکٹ لیب کے تخمینے کے مطابق رواں سال جون سے ستمبر کے دوران شدید گرمی کے باعث 4 لاکھ 84 ہزار 500 اضافی اموات ہوسکتی ہیں، جبکہ اس کے بعد آنے والے چھ ماہ میں مزید 3 لاکھ 72 ہزار 900 ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ان اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر ممکنہ اموات کی تعداد 8 لاکھ 57 ہزار 400 تک پہنچ سکتی ہے، جو تقریباً 9 لاکھ بنتی ہے۔

تحقیق میں مختلف ممالک کے حوالے سے بھی تشویشناک تخمینے پیش کیے گئے ہیں۔

نائیجیریا کو سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سرفہرست قرار دیا گیا ہے، جہاں 56 ہزار سے زائد اضافی اموات کا خدشہ ہے۔ اسی طرح بھارت میں شدید گرمی کے باعث تقریباً 55 ہزار جبکہ انڈونیشیا میں 29 ہزار کے قریب اضافی ہلاکتیں متوقع ہیں۔

ماہرین کے مطابق چین، نائیجیریا اور بھارت میں مجموعی طور پر ایل نینو سے منسلک گرمی کے باعث ہونے والی متوقع اموات کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ سامنے آسکتا ہے۔

ان ممالک میں آبادی کی بڑی تعداد، بلند درجہ حرارت اور شدید گرمی سے تحفظ کے وسائل کی محدود دستیابی جیسے عوامل خطرات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

سائنسی اعتبار سے ایل نینو بحرالکاہل کے استوائی حصے میں سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں غیرمعمولی اضافے سے جڑا موسمیاتی رجحان ہے، جو دنیا کے مختلف خطوں میں بارشوں، خشک سالی اور درجہ حرارت کے معمولات کو متاثر کرسکتا ہے۔ اس کی شدید شکل کو سپر ایل نینو کہا جاتا ہے۔

موسمیاتی ماہرین کے مطابق اس رجحان کے ممکنہ اثرات کے باعث گرمی کی شدت اور اس سے وابستہ صحت کے خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے، تاہم اموات سے متعلق یہ اعداد و شمار تحقیقی تخمینے ہیں، حتمی نتائج نہیں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت