انڈونیشیا میں صدر کی مبینہ جاسوسی کا بڑا اسکینڈل، سابق پولیس سربراہ سمیت 3 اعلیٰ افسران گرفتار

انڈونیشیا میں صدر پرابوو سوبیانتو سمیت اہم حکومتی، سیاسی اور سماجی شخصیات کے ٹیلی فون غیر قانونی طور پر ریکارڈ کرنے کا سنگین معاملہ سامنے آگیا، جس کے بعد سابق قومی پولیس سربراہ سمیت 3 اعلیٰ پولیس افسران کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ صدر نے اپنے چیف آف اسٹاف لسٹیو سگیت پرابوو کو بھی عہدے سے برطرف کردیا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق گرفتار افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے 2025 سے رواں سال تک خفیہ طور پر متعدد اہم شخصیات کی ٹیلی فون گفتگو کی نگرانی کی۔ اس مبینہ جاسوسی کا دائرہ صرف صدر اور کابینہ کے وزرا تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں صحافیوں، سیاست دانوں، کاروباری شخصیات، سماجی تنظیموں اور غیر سرکاری اداروں کے رہنماؤں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں لسٹیو سگیت پرابوو بھی شامل ہیں، جو گزشتہ 5 برس سے انڈونیشیا کی قومی پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں گزشتہ ماہ صدر کا چیف آف اسٹاف مقرر کیا گیا تھا، تاہم جاسوسی کے معاملے میں گرفتاری کے بعد صدر پرابوو نے بدھ کے روز انہیں اس ذمہ داری سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔
انڈونیشیا کے صدارتی ترجمان پراسیتیو ہادی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ نگرانی کی یہ کارروائیاں بعض منحرف عناصر کی جانب سے کی گئیں، جنہیں غداری کے زمرے میں بھی شمار کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق ریاستی اداروں اور ملک کی اعلیٰ قیادت کے خلاف اس نوعیت کی سرگرمیاں قومی مفادات اور بالخصوص صدر کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تینوں افسران نے متعلقہ تفتیشی اداروں کی جانب سے باضابطہ درخواست موصول ہوئے بغیر ہی مختلف شخصیات کے ٹیلی فون کی نگرانی کی۔ مزید یہ کہ گزشتہ ماہ ملزمان نے اپنی خفیہ سرگرمیوں سے متعلق الیکٹرانک ریکارڈ بھی حذف کرنے کا حکم دیا تھا، جس سے معاملے کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ نے گرفتار کیے گئے دیگر 2 افسران کی شناخت احری سونتا ناصوتیون اور ایکو ہادی سانتوسو کے نام سے کی ہے۔ احری سونتا ناصوتیون قومی پولیس کے قانونی شعبے کے سربراہ ہیں، جبکہ ایکو ہادی سانتوسو پولیس کے ایک تعلیمی ادارے میں اعلیٰ عہدے پر تعینات تھے۔
ادھر انڈونیشیا کے سینئر وزیر برائے قانونی امور یوسریل احزا مہندرا نے کہا ہے کہ حکومت کو تاحال اس بات کا تعین کرنے میں کامیابی نہیں ملی کہ اعلیٰ پولیس افسران نے اتنے بڑے پیمانے پر ٹیلی فون کی نگرانی کس مقصد کے تحت کی اور اس کارروائی کے پیچھے اصل محرکات کیا تھے۔
یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر پرابوو سوبیانتو کو ملکی سطح پر متعدد سیاسی اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کی حکومتی پالیسیوں پر عوامی بے چینی میں اضافے کے باعث مقبولیت متاثر ہوئی ہے، جبکہ ملکی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی اور قومی کرنسی کی قدر میں کمی نے بھی معیشت کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
اس کے علاوہ عالمی مالیاتی ادارے ایم ایس سی آئی کی جانب سے انڈونیشیا کی اسٹاک مارکیٹ کی درجہ بندی میں کمی کے امکانات نے بھی سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ ایسے حالات میں صدر اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کی مبینہ جاسوسی کے انکشاف نے ملک میں سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار یانور نوگروہو کا کہنا ہے کہ صدر پرابوو کے دورِ حکومت میں چیف آف اسٹاف کے عہدے کی اہمیت پہلے کے مقابلے میں کم ہوئی ہے۔ ان کے مطابق لسٹیو سگیت پرابوو کو گزشتہ ماہ اس منصب پر تعینات کرنے کے فیصلے کا ممکنہ مقصد انہیں قومی پولیس کی سربراہی جیسے اہم عہدے سے الگ کرنا تھا۔
یانور نوگروہو کے مطابق صدر پرابوو کو ایسے پولیس سربراہ کی ضرورت ہے جس پر وہ مکمل اعتماد کرسکیں، جبکہ لسٹیو سگیت سابق صدر جوکو ویدودو کے قریبی اور وفادار ساتھی تصور کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پس منظر میں پولیس کے اعلیٰ عہدوں پر تبدیلیوں کو بھی صدر کی سیاسی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت