امریکی انتخابی نتائج: کیا ڈیموکریٹس کی کامیابی ٹرمپ کی پالیسیوں کو بدل سکے گی؟

واشنگٹن: امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات محض کانگریس کی نشستوں کا مقابلہ نہیں، بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے ابتدائی 2 برسوں پر عوامی رائے کا ایک اہم امتحان ہیں۔
مبصرین کے مطابق ان انتخابات کے نتائج یہ طے کریں گے کہ وائٹ ہاؤس کے پاس اپنی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے کتنی سیاسی گنجائش باقی رہتی ہے اور ڈیموکریٹس صدر کے لیے کس حد تک رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
امریکی سیاسی نظام کے تحت وسط مدتی انتخابات میں صدر کا انتخاب نہیں ہوتا، لہٰذا ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت ان نتائج سے خود بخود ختم نہیں ہوسکتی۔ اس انتخابی عمل میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہوا، جبکہ متعدد ریاستوں میں گورنرز کے انتخابات بھی منعقد کیے گئے۔
تازہ ترین انتخابی جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹس کے لیے ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن اکثریت ختم کرنے کے امکانات بہتر ہیں، تاہم سینیٹ کا مقابلہ کافی سخت دکھائی دے رہا ہے۔ مکمل نتائج سامنے آنے میں ابھی وقت لگے گا کیونکہ ڈاک کے ذریعے آنے والے ووٹوں اور قریبی مقابلوں کے باعث گنتی کا عمل طویل ہو سکتا ہے۔
اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں برتری حاصل کر لیتے ہیں تو صدر ٹرمپ کے لیے قانون سازی اور بجٹ کے معاملات میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر کے پاس ایگزیکٹو اختیارات اور ویٹو کا حق موجود ہے، جس کے باعث کانگریس کی اکثریت ان کی صدارت کو ختم تو نہیں کر سکتی، لیکن ان کی پالیسیوں پر نگرانی اور تحقیقات کے ذریعے دباؤ ضرور بڑھا سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران کے ساتھ جاری تناؤ بھی ان انتخابات کا ایک اہم پہلو ہے، جس نے ایندھن کی قیمتوں اور امریکی معیشت کو متاثر کیا ہے۔ ڈیموکریٹس کی کامیابی کا مطلب جنگ کا فوری خاتمہ ہرگز نہیں، کیونکہ خارجہ پالیسی کے فیصلے صرف کانگریس کے زیرِ اثر نہیں ہوتے۔
تاہم نئی کانگریس انتظامیہ سے جنگی اخراجات اور فوجی حکمتِ عملی پر سخت جواب طلبی ضرور کر سکتی ہے۔ عالمی سطح پر بھی دنیا کی نظریں ان انتخابات کے نتائج پر مرکوز ہیں، کیونکہ ان کا اثر امریکی خارجہ پالیسی اور علاقائی سلامتی پر براہِ راست پڑنے کا امکان ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت