بدھ، 4 نومبر، 2026 · 25 جمادی الاول، 1448 ہجری

آلودہ ہوا میں سانس لینا ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے، تحقیق

قومی خبریں

فضائی آلودگی کے انسانی صحت پر تباہ کن اثرات کے حوالے سے ایک اہم سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ آلودہ ہوا ٹائپ 2 ذیابیطس جیسی دائمی بیماریوں کے پھیلاؤ میں براہ راست کردار ادا کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق پی ایم 2.5 کے نام سے مشہور باریک زہریلے ذرات انسانی صحت کے لیے شدید خطرہ ہیں۔

یہ طبی تحقیق بھارت کے دارالحکومت دہلی اور جنوبی شہر چنئی میں کی گئی، جس میں 12 ہزار افراد کو سات برس تک زیر نگرانی رکھا گیا۔

ماہرین نے سیٹلائٹ ڈیٹا اور فضائی آلودگی کے ماڈلز کی مدد سے یہ ثابت کیا کہ آلودہ ماحول میں رہنے سے خون میں شوگر کی سطح تیزی سے بڑھتی ہے۔

تحقیق کے ماہر امراض قلب ڈاکٹر ڈوریراج پربھاکرن نے کہا کہ پی ایم 2.5 ذرات اتنے باریک ہوتے ہیں کہ وہ پھیپھڑوں کے ذریعے خون میں شامل ہو کر شریانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان ذرات میں موجود سلفیٹ اور نائٹریٹ انسانی جسم میں سوزش پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

ماہرین نے مزید کہا کہ ایک سال سے زائد عرصے تک آلودہ ہوا میں سانس لینے سے ذیابیطس کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔ یہ زہریلے ذرات جسم کے اینڈوکرائن نظام کو متاثر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسولین کی پیداوار اور افادیت میں شدید خلل پیدا ہوتا ہے جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس اور بلند فشار خون مل کر دل کے دورے اور دیگر قلبی امراض کے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ یہ صورتحال ان دائمی بیماریوں کے بوجھ کو مزید سنگین بنا رہی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔

اس وقت طبی ماہرین کی ٹیم آلودگی کے کولیسٹرول، وٹامن ڈی کی کمی اور دیگر سنگین اعصابی بیماریوں سے تعلق پر تحقیق کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فضائی آلودگی میں کمی لا کر ذیابیطس اور دیگر غیر متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت