سرد موسم میں صبح کی سیر، دل کے مریضوں کے لیے کن خطرات کا باعث بن سکتی ہے؟

سردیوں میں صبح سویرے چہل قدمی کرنا جہاں صحت مند افراد کے لیے خوشگوار اور مفید سرگرمی ثابت ہوتا ہے، وہیں دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے شدید سردی میں باہر نکلنا بعض اوقات خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ ٹھنڈی ہواؤں، کم درجہ حرارت اور دھند کے دوران جسم پر اضافی دباؤ پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں دل کو خون کی روانی برقرار رکھنے کے لیے معمول سے زیادہ محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔
ماہرین امراض قلب کے مطابق سرد موسم میں جسم کے اندر ہونے والی تبدیلیاں بلڈ پریشر میں اضافے اور دل پر دباؤ بڑھنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ ایسے افراد جنہیں پہلے سے دل کی بیماری لاحق ہو، انہیں موسم کی شدت کے دوران جسمانی سرگرمیوں میں خصوصی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دل کے مریض چہل قدمی یا ورزش ترک کردیں، بلکہ انہیں اپنی صحت اور موسم کی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے معمولات ترتیب دینے چاہئیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سردی کے باعث خون کی نالیاں سکڑنے لگتی ہیں، جسے طبی اصطلاح میں ویزوکنسٹرکشن کہا جاتا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں خون کی روانی کے خلاف مزاحمت بڑھ سکتی ہے اور بلڈ پریشر میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں دل کو جسم کے مختلف حصوں تک خون پہنچانے کے لیے زیادہ قوت صرف کرنا پڑتی ہے۔
سرد موسم میں جسم کو گرم رکھنے کے لیے بھی اضافی توانائی درکار ہوتی ہے، جبکہ جسمانی مشقت کے دوران آکسیجن کی ضرورت مزید بڑھ سکتی ہے۔ جن افراد کی دل کو خون فراہم کرنے والی شریانیں پہلے ہی تنگ ہوں، ان کے لیے یہ صورت حال مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ سردی اور جسمانی مشقت کا مشترکہ اثر سینے میں درد یا دل کی بیماری سے متعلق دیگر علامات کو جنم دے سکتا ہے۔
خصوصاً ہائی بلڈ پریشر، دل کی شریانوں میں بیماری اور ماضی میں دل کا دورہ پڑنے والے افراد کو سردیوں میں باہر نکلتے وقت زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔ ان افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی جسمانی کیفیت کا جائزہ لیتے رہیں اور کسی بھی غیر معمولی علامت کو نظر انداز نہ کریں۔
صبح کی شدید سردی میں سیر سے کیوں بچنا چاہیے؟
ماہرین امراض قلب کے مطابق دل کے مریضوں کو ایسے وقت میں گھر سے باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیے جب موسم انتہائی سرد ہو اور درجہ حرارت اپنی کم ترین سطح پر ہو۔ خصوصاً سردی کی شدید لہر کے دوران صبح سویرے سیر کرنا دل پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔
اس کے بجائے دن چڑھنے اور درجہ حرارت میں نسبتاً اضافے کے بعد چہل قدمی کرنا زیادہ مناسب ہوسکتا ہے۔ تاہم سیر کے لیے وقت کا انتخاب کرتے ہوئے صرف سردی کو ہی مدنظر رکھنا کافی نہیں، بلکہ فضائی آلودگی کی صورت حال بھی اہمیت رکھتی ہے۔
سردیوں کے دوران بعض شہروں میں صبح کے اوقات میں فضائی آلودگی کی سطح بڑھ جاتی ہے، جو دل اور سانس کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ اسی لیے گھر سے نکلنے سے قبل موسم اور فضائی آلودگی کی کیفیت معلوم کرنا بہتر ہے۔
گرم لباس اور ہلکی رفتار سے چہل قدمی کا آغاز کریں
سردیوں میں سیر کے دوران جسم کو گرم رکھنا انتہائی اہم ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ باہر نکلتے وقت ایسا لباس پہنا جائے جو جسم کی حرارت برقرار رکھنے میں مدد دے۔ ایک موٹے لباس کے بجائے کپڑوں کی متعدد ہلکی تہیں پہننا زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
سر، کانوں اور ہاتھوں کو بھی سرد ہوا سے محفوظ رکھنا چاہیے، کیونکہ جسم کے یہ حصے سردی سے جلد متاثر ہوسکتے ہیں۔ مناسب لباس پہننے سے جسم کو درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی کے اثرات سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
گھر سے باہر نکلنے سے پہلے 5 سے 10 منٹ تک ہلکی پھلکی ورزش یا جسم کو حرکت دینے والی سرگرمیاں کرنا مفید ہوسکتا ہے۔ اس طرح جسم کو بتدریج جسمانی مشقت کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے۔ سیر کا آغاز بھی آہستہ رفتار سے کرنا چاہیے اور جسمانی حالت اجازت دے تو رفتہ رفتہ رفتار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
دل کے مریضوں کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق چہل قدمی کرنا ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک آسان اصول یہ ہے کہ سیر کے دوران انسان اتنی رفتار سے چلے کہ کسی دوسرے شخص سے بات چیت بھی کرسکے۔ اگر چلتے ہوئے گفتگو کرنا مشکل ہوجائے تو یہ اس بات کی علامت ہوسکتی ہے کہ جسم پر ضرورت سے زیادہ دباؤ پڑ رہا ہے۔
جن افراد کو حال ہی میں دل کا دورہ پڑا ہو یا وہ دل کی ناکامی کے مرض میں مبتلا ہوں، انہیں اپنی مرضی سے ورزش کا معمول ترتیب دینے کے بجائے معالج کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ ایسے مریضوں کے لیے جسمانی سرگرمیوں کی نوعیت اور شدت کا تعین ان کی طبی کیفیت کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
سینے میں درد اور سانس پھولنے کی علامات کو نظر انداز نہ کریں
سردیوں میں سیر کے دوران بعض علامات کو عام سردی یا تھکن کا اثر سمجھ کر نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سینے میں دباؤ یا درد محسوس ہونا، معمول سے زیادہ سانس پھولنا، چکر آنا، ٹھنڈے پسینے آنا اور متلی محسوس ہونا دل کی بیماری سے متعلق خطرے کی علامات ہوسکتی ہیں۔
اسی طرح اگر درد سینے سے شروع ہوکر بازو، جبڑے یا کمر تک پھیلنے لگے تو اسے بھی معمولی تکلیف نہیں سمجھنا چاہیے۔ ایسی علامات دل کے دورے سمیت کسی سنگین طبی مسئلے کی نشاندہی کرسکتی ہیں۔
اگر سیر کے دوران ان میں سے کوئی علامت ظاہر ہو تو فوری طور پر چلنا بند کردیں اور طبی امداد حاصل کریں۔ تکلیف کے باوجود چہل قدمی جاری رکھنا یا خود گاڑی چلا کر اسپتال پہنچنے کی کوشش کرنا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ ایسی صورت میں فوری طبی مدد حاصل کرنا زیادہ محفوظ راستہ ہے۔
دل کے مریضوں کو اپنی تجویز کردہ ادویات بھی باقاعدگی سے استعمال کرنی چاہئیں۔ معالج کے مشورے کے بغیر دوا کی مقدار کم یا زیادہ کرنا یا علاج میں تبدیلی کرنا مناسب نہیں۔ اگر بلڈ پریشر قابو میں نہ ہو، دل کی صحت سے متعلق کوئی نئی علامت سامنے آئے یا حال ہی میں طبی حالت میں تبدیلی ہوئی ہو تو صبح کی سیر دوبارہ شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق سردیوں میں دل کے مریضوں کے لیے جسمانی سرگرمیوں سے مکمل طور پر دور رہنا ضروری نہیں، کیونکہ باقاعدہ اور مناسب ورزش دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوسکتی ہے۔ تاہم موسم کی شدت، جسمانی کیفیت اور طبی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے چہل قدمی کا وقت، لباس اور رفتار طے کرنا چاہیے تاکہ صحت کے فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ممکنہ خطرات سے بھی محفوظ رہا جاسکے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت