بدھ، 4 نومبر، 2026 · 25 جمادی الاول، 1448 ہجری

امریکی سینیٹ انتخاب: مسلم شناخت کے بجائے پالیسی ایجنڈے پر توجہ ہے، عبدالسید

قومی خبریں
امریکی سینیٹ انتخاب: مسلم شناخت کے بجائے پالیسی ایجنڈے پر توجہ ہے، عبدالسید

واشنگٹن: امریکی ریاست مشی گن سے سینیٹ کے امیدوار عبدالسید نے واضح کیا ہے کہ ان کی انتخابی مہم کا اصل مقصد پہلے مسلمان سینیٹر کے طور پر منتخب ہونا نہیں بلکہ اپنے عوامی پالیسی ایجنڈے کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھانا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایک امیدوار کی حیثیت سے ان کی بنیادی توجہ عوامی مسائل کے حل اور امریکی شہریوں کے لیے بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی پر مرکوز ہے۔ لہٰذا وہ انتخابی عمل کے دوران شناخت کی سیاست کے بجائے حقیقی مسائل پر بات کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

عبدالسید نے مزید کہا کہ اگر وہ منتخب ہوتے ہیں تو یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہوگی کہ امریکا ایک وسیع اور ہمہ گیر ملک ہے، جہاں ہر پس منظر اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کو آگے بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنے کا برابر موقع ملتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی انتخابی کامیابی ان نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگی جو حالیہ سیاسی بیان بازی میں اقلیتی گروہوں اور مسلمانوں کو نشانہ بنتے دیکھ کر مایوس ہو چکے ہیں۔ یہ کامیابی ان کی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گی۔

عبدالسید کا کہنا ہے کہ سیاسی ماحول میں تلخی کے باوجود عوام اب بھی پالیسیوں پر مبنی سیاست کو اہمیت دیتے ہیں۔ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران روایتی تنقید سے گریز کرتے ہوئے اپنے ٹھوس اصلاحاتی پروگرام کو عوام تک پہنچانے کے لیے مسلسل کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی جمہوریت کا حسن اس کے تنوع میں مضمر ہے اور وہ اس تنوع کو اپنی سیاسی قوت بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد ایک ایسا ایجنڈا پیش کرنا ہے جو معاشرے کے تمام محروم طبقات کی نمائندگی کرے اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دے سکے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق عبدالسید کا یہ بیانیہ امریکی ووٹرز میں نئی بحث چھیڑ سکتا ہے، خاص طور پر ان حلقوں میں جو شناخت کے بجائے بنیادی حقوق اور معاشی پالیسیوں پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ اقدام انتخابی مہم کو ایک نئی سمت دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت