ایران میں جوہری حملے اور تابکاری کے خطرات کے پیشِ نظر طبی حفاظتی ہدایات جاری

تہران: ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور جزیرہ قشم پر امریکی حملوں کے تناظر میں ایرانی حکام نے شہریوں کے لیے جوہری تابکاری سے بچاؤ کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
خطے کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اعلانات نے خطے میں بڑے فوجی تصادم کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اصفہان ہلال احمر کے عہدیدار ابراہیم عادل زادہ نے عوام کو ہنگامی صورتحال میں اپنا تحفظ یقینی بنانے کے طریقے بتائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جوہری حادثے یا تابکاری کے خطرے کی صورت میں شہریوں کو فوری طور پر عمارتوں کے اندر پناہ لے لینی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گھروں کے تمام دروازے اور کھڑکیاں مکمل طور پر بند رکھی جائیں اور باہر سے ہوا اندر لانے والے نظام کو فوراً روک دیا جائے۔ عمارت کا تہہ خانہ یا کھڑکیوں سے دور والا اندرونی حصہ محفوظ پناہ گاہ ثابت ہو سکتا ہے۔
دھماکے کے وقت شہریوں کو زمین کے قریب رہنے اور روشنی کی جانب براہ راست نہ دیکھنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص تابکار گردوغبار کی زد میں آ جائے تو اسے اپنا بیرونی لباس احتیاط سے اتار کر اسے تھیلے میں بند کرنا چاہیے۔
طبی حکام نے جلد اور بالوں کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھونے کا مشورہ دیا ہے۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ نقل مکانی کا حکم ملنے پر صرف سرکاری ہدایات اور مقرر کردہ راستوں پر ہی عمل کیا جائے تاکہ کسی بھی افراتفری سے بچا جا سکے۔
گاڑی میں سفر کے دوران بھی کھڑکیاں بند رکھنے اور ہوا کی آمد روکنے کا نظام فعال رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ ایرانی طبی حکام نے آیوڈین کی گولیاں ڈاکٹروں کی ہدایت کے بغیر استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہر قسم کی تابکاری کا علاج نہیں ہے۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا کی جانب سے ایرانی جزیرے پر محدود حملوں کی اطلاعات ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کارروائیوں کا عندیہ دے رکھا ہے۔
حکومت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور سرکاری الرٹ پر مکمل عمل کریں۔
بشکریہ روزنامہ جسارت