بدھ، 4 نومبر، 2026 · 25 جمادی الاول، 1448 ہجری

پوپ لیو چہاردہم امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے پہلے پوپ بن گئے

قومی خبریں
پوپ لیو چہاردہم امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے پہلے پوپ بن گئے

کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے امریکی شہری کی حیثیت سے وسط مدتی انتخابات میں ڈاک کے ذریعے ووٹ کاسٹ کرکے تاریخ رقم کردی۔ وہ امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے پہلے پوپ بن گئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ویٹی کن نے تصدیق کی ہے کہ امریکا میں پیدا ہونے والے پوپ لیو نے انتخابات سے قبل شکاگو میں اپنا ووٹ ڈاک کے ذریعے ڈالا۔ ان کا اصل نام رابرٹ پریوسٹ ہے اور وہ شکاگو میں پیدا ہوئے تھے۔

ویٹی کن کے پریس آفس کے مطابق پوپ لیو نے امریکی شہری ہونے کے ناتے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ جب بھی وہ ووٹ ڈالنے کے اہل رہے، انہوں نے انتخابی عمل میں حصہ لیا۔ پیرو میں قیام کے دوران بھی انہوں نے ووٹ کاسٹ کیا تھا، جہاں وہ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک مشنری پادری اور بشپ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

ویٹی کن کے بیان میں کہا گیا کہ پوپ لیو جمہوری عمل میں شہریوں کی شرکت کو ان کا حق ہی نہیں بلکہ ذمہ داری بھی سمجھتے ہیں۔

پوپ لیو چہاردہم کے پاس امریکا اور پیرو دونوں ممالک کی شہریت ہے، جبکہ وہ ویٹی کن سٹی کے سربراہِ مملکت بھی ہیں۔ ویٹی کن میں بادشاہت کا نظام رائج ہے اور وہاں سیاسی انتخابات نہیں ہوتے۔

امریکی وفاقی قانون کے تحت بیرون ملک مقیم امریکی شہری ڈاک یا غیر حاضر ووٹ کے ذریعے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں، چاہے وہ کسی دوسری ریاست کے لیے خدمات انجام دے رہے ہوں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق کسی غیر ملکی ریاست کے سربراہ کا عہدہ رکھنے سے امریکی شہریت خودبخود ختم نہیں ہوتی، تاہم ایسے شہری کی شہریت کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت