ایران پر بڑے حملے کا وقت آگیا: انتخابی شکست کے بعد ٹرمپ کی بڑی فوجی کارروائی کی دھمکی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف کسی بھی بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ تہران کو ایک سخت اور شدید ضرب لگائی جائے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کی جوہری صلاحیتوں کو روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سخت مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت ہرگز نہیں دے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا امریکی پالیسی کی ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری اقدامات اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے گفتگو کے دوران اشارہ دیا کہ ممکنہ فوجی کارروائی میں ایران کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایک بڑی کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے جس میں سخت حملے شامل ہو سکتے ہیں تاکہ خطے میں ایران کے جوہری عزائم کو مستقل طور پر ناکام بنایا جا سکے۔
امریکی صدر نے انٹرویو کے دوران ملکی سیاست پر بھی بات کی اور اعتراف کیا کہ ریپبلکن پارٹی کی وسط مدتی انتخابات میں کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کو شدید متاثر کیا اور ووٹرز نے مہنگائی کے باعث انتخابی نتائج میں اپنا غصہ ظاہر کیا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کیں، جس کا براہ راست اثر انتخابی عمل پر مرتب ہوا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی دباؤ اور بنیادی ضروریات کی قیمتیں عوامی مقبولیت میں کمی کا باعث بنیں، تاہم وہ اپنی خارجہ پالیسی پر بدستور قائم ہیں۔
اس تمام صورتحال کے تناظر میں عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا بیان مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری یہ کشمکش جوہری پروگرام اور خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں کے گرد گھومتی نظر آتی ہے جو مستقبل میں مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت