بدھ، 4 نومبر، 2026 · 25 جمادی الاول، 1448 ہجری

کراچی پورٹ پر جدید ٹیکنالوجی متعارف، سیکیورٹی نظام مزید مؤثر بنانے کے اقدامات

قومی خبریں
کراچی پورٹ پر جدید ٹیکنالوجی متعارف، سیکیورٹی نظام مزید مؤثر بنانے کے اقدامات

کراچی بندرگاہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور تجارتی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) اور کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (کے آئی سی ٹی) کے اشتراک سے مختلف اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، بہتر رابطہ کاری، برقی مشینری اور ڈیجیٹل سیکیورٹی نظام کے ذریعے بندرگاہ کے آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنانے کا عمل تیز کردیا گیا ہے، جس سے کنٹینرز کی جانچ، سامان کی نقل و حرکت اور جہازوں کی آمد و رفت کے انتظامات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

ترجمان کراچی پورٹ ٹرسٹ کے مطابق کے پی ٹی کے ٹرمینل آپریٹر کے آئی سی ٹی نے جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے بندرگاہ کے مختلف آپریشنز میں بہتری لانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں ڈرائیو تھرو این ایل سی اسکیننگ سسٹم خصوصی اہمیت رکھتا ہے، جس کے ذریعے اب فی گھنٹہ 25 سے 30 کنٹینرز کی اسکیننگ ممکن ہوگئی ہے۔ اس جدید نظام سے کنٹینرز کی جانچ پڑتال کے عمل میں تیزی آئے گی اور سامان کی نقل و حمل کے دوران غیر ضروری تاخیر کم کرنے میں مدد ملے گی۔

بندرگاہ کے یارڈ آپریشنز کو تیز، مؤثر اور ماحول دوست بنانے کے لیے برقی ریچ اسٹیکرز بھی متعارف کرا دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ یارڈ میں 27 نئے ٹریلرز شامل کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے کنٹینرز اور دیگر سامان کی اندرونِ بندرگاہ نقل و حرکت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ جدید مشینری اور اضافی ٹریلرز کی دستیابی سے کارگو کی منتقلی کے عمل میں تیزی آنے کے ساتھ آپریشنل استعداد میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

کے پی ٹی کے مطابق بندرگاہ پر جدید انتظامات کا بنیادی مقصد جہازوں اور کنٹینرز سے متعلق امور کو کم وقت میں مکمل کرنا اور مجموعی پیداواری صلاحیت بڑھانا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں جہازوں کے ٹرن اراؤنڈ ٹائم یعنی بندرگاہ پر آمد سے روانگی تک کے دورانیے میں کمی لانے اور تجارتی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے میں مدد ملے گی۔ بندرگاہ پر سامان کی بروقت ترسیل ملکی درآمدات اور برآمدات کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ کنٹینرز کی نقل و حرکت میں تاخیر سے تجارتی لاگت اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔

دوسری جانب کراچی پورٹ کو ملک کے دیگر تجارتی مراکز سے بہتر طور پر منسلک کرنے کے لیے کے آئی سی ٹی ٹرین منصوبے پر بھی پیشرفت کی جارہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت کراچی کو لاہور کے قریب جیا باگہ ڈرائی پورٹ کے ذریعے ریلوے رابطے سے منسلک کیا جارہا ہے۔ اس رابطے سے بندرگاہ سے آنے اور جانے والے سامان کی زمینی نقل و حمل کو فروغ ملنے اور تجارتی کارگو کی ترسیل کے لیے متبادل سہولت فراہم ہونے کی توقع ہے۔ ریلوے کے ذریعے مال برداری کو بہتر بنانے سے سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کے دباؤ میں کمی اور سامان کی ترسیل کے نظام کو زیادہ مربوط بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

کراچی بندرگاہ پر سیکیورٹی انتظامات کو جدید بنانے کے لیے چہرے کی شناخت پر مبنی ڈیجیٹل تصدیقی نظام بھی متعارف کرا دیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت بیرونی ڈرائیوروں کی بائیومیٹرک رجسٹریشن اور بندرگاہ کے داخلی دروازوں پر فوری تصدیق کا انتظام فعال کردیا گیا ہے،اب تک 23 ہزار بیرونی ڈرائیوروں کی رجسٹریشن مکمل کی جاچکی ہے۔

ڈیجیٹل تصدیق کے اس نظام کو ٹرمینل آپریٹنگ سسٹم سے بھی منسلک کردیا گیا ہے، جس کے ذریعے بندرگاہ میں داخل ہونے والے ڈرائیوروں کی شناخت اور متعلقہ معلومات کی جانچ پڑتال کو زیادہ منظم بنایا جارہا ہے۔ اس اقدام سے غیر متعلقہ افراد کی نقل و حرکت کی روک تھام، داخلی راستوں پر نگرانی اور سیکیورٹی کے مجموعی نظام کو مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔

ترجمان کراچی پورٹ ٹرسٹ کے مطابق جدید اسکیننگ، برقی مشینری، اضافی ٹریلرز، ریلوے رابطے اور ڈیجیٹل سیکیورٹی جیسے اقدامات بندرگاہ کی استعداد کار میں اضافے کی جانب اہم پیشرفت ہیں۔ ان منصوبوں سے کراچی بندرگاہ پر تجارتی سرگرمیوں کو بہتر بنانے، کنٹینرز کی ترسیل میں تیزی لانے اور ملکی درآمدی و برآمدی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت