منگل، 3 نومبر، 2026 · 24 جمادی الاول، 1448 ہجری

اے آئی سے طیاروں کی ہائی جیکنگ کے خطرات، ایوی ایشن ماہرین نے خبردار کردیا

قومی خبریں

کراچی: ماہرین ایوی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس مصنوعی ذہانت (اے آئی)کے ذریعے مستقبل میں ہوائی جہازوں کے ہائی جیکنگ کے کیس سامنے آ سکتے ہیں۔

ایوی ایشن ماہرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے غلط استعمال، خطرات اور ان کے سدباب (روک تھام)کی ضرورت پر زور دیا ہے،مصنوعی ذہانت (AI) مستقبل میں طیاروں کے کنٹرول اور ہوا بازی کی صنعت کو مکمل طور پر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے،سائبر ہائی جیکنگ کے خطرات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت (AI) مستقبل میں ایوی ایشن (ہوا بازی) اور جہازوں کی سیکورٹی کے لیے ایک سنگین اور نیا چیلنج بن سکتی ہے۔مستقبل میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا استعمال کرتے ہوئے جہازوں کو ہائی جیک یا ان کا کنٹرول حاصل کیا جانا تکنیکی طور پر ممکن ہے۔

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کےحوالے سے ایئر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن (اے، او، او ،اے) کے بانی وچیف ایگزیکٹو آفیسراور فلائنگ ٹریننگ آرگنائزیشن اسکائی ونگز ایوی ایشن کے مینیجنگ ڈائریکٹرعمران اسلم خان نے جسارت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مستقبل میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا استعمال کرتے ہوئے جہازوں کو ہائی جیک یا ان کا کنٹرول حاصل کیا جانا ٹینیکل طور پر ممکن ہے۔ تاہم، روایتی ہائی جیکنگ (جہاں دہشت گرد جسمانی طور پر کاک پٹ میں داخل ہوتے ہیں) کے برعکس، یہ خطرہ ڈیجیٹل اور سائبر حملوں کی شکل میں ہوگا۔ یہ روایتی ہائی جیکنگ سے مختلف ہوسکتی ہے۔اس کے لیے جہاز کے اندر کسی ہتھیار یا انسان کی موجودگی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ حملہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر صرف ایک لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ/سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

انہوں بتایا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جہازوں اور فضائی سیکورٹی کو کئی طرح کے نئے اور پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے ،اگر جہاز کا کنٹرول مکمل طور پر ای آئی اور انٹرنیٹ سے منسلک سسٹمز پر ہوگا، تو ہیکرز وائرس یا مالویئر کے ذریعے جہاز کے سسٹم میں داخل ہو سکتے ہیں۔اورماہر ہیکرز زمین پر بیٹھ کر یا جہاز کے اندر موجود مسافر وائی فائی (Wi-Fi) نیٹ ورک کا غلط استعمال کر کے جہاز کے نیویگیشن سسٹم کو ہیک کر سکتے ہیں اور اس کا رخ موڑ سکتے ہیں۔ مستقبل میں ہیکرز خود بھی ای آئی کا استعمال کر کے جہاز کے حفاظتی سسٹمز (Firewalls) کو توڑنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ان خطرات سے نمٹنے کے لیے ہوا بازی کے ادارے (جیسے FAA اور EASA)مختلف اقدامات پر کام کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق مستقبل کے طاقتور اے آئی سسٹمز اور الگورتھمز اتنی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں کہ وہ جہازوں کے نیویگیشن، مواصلاتی نظام (Communication systems) یا آٹو پائلٹ کو ہیک کر کے ان کا رخ موڑ سکیں۔ اگر اے آئی ایجنٹس یا خودکار نظاموں کو بغیر انسانی نگرانی کے زیادہ خودمختاری دی گئی، تو غلط استعمال کی صورت میں ان کے بے قابو ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔جس طرح اے آئی سسٹمز بہتر ہو رہے ہیں، اسی طرح ہیکرز بھی مصنوعی ذہانت کا استعمال کر کے جہازوں یا ایئر ٹریفک کنٹرول کے نظام میں نقائص تلاش کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

اے آئی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ایوی ایشن سیکورٹی اور سائبر ڈیفنس کے قوانین کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ہوائی بازی کی صنعت (Aviation Industry) اس خطرے سے پوری طرح واقف ہے اور اس سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔جہاں سائبر مجرم حملے کے لیے اے آئی استعمال کر سکتے ہیں، وہی جہاز ساز کمپنیاں (جیسے بوئنگ اور ایئربس) جہازوں کے سسٹمز کی حفاظت کے لیے زیادہ طاقتور دفاعی اے آئی سسٹمز تیار کر رہی ہیں جو کسی بھی ہیکنگ کی کوشش کو فوری ناکام بنا دیں۔

اے آئی کے ذریعے جہازوں کو ہیک یا ہائی جیک کرنے کا خطرہ ایک حقیقی چیلنج ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ہوا بازی کی دنیا میں سائبر سیکورٹی کو اس قدر سخت بنایا جا رہا ہے کہ ایسا کرنا انتہائی مشکل ترین کام ہوگا۔فضائی کمپنیوں اور اداروں کی جانب سے اسمارٹ سیکورٹی، سخت مانیٹرنگ، اور اے آئی بیسڈ سائبر ڈیفنس سسٹمز کو بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے ۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ایوی ایشن سیکورٹی کے لیے انتظامی اصلاحات، اندرونی خطرات سے نمٹنے اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) سے مستقبل میں ہونے والے خدشات پر متعلقہ اتھارٹیز کو مکتوب اور اخبارات میں کالمز بھی لکھے ہیں تاکہ پہلے سے ایوی ایشن سیکورٹی کے نظاموں کو بہتر بنایا جاسکے ۔عالمی ریگولیٹرز، ایئر لائنز اور سیکورٹی ادارے اندرونی خطرات کو کم کرنے کے خاطر ٹھوس اور پیشگی اقدامات کرنے کی ضروروت ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت