منگل، 3 نومبر، 2026 · 24 جمادی الاول، 1448 ہجری

ایرانی وزیر خارجہ کا علاقائی سلامتی کے نظام سے غیر ملکی افواج کے انخلا پر زور

قومی خبریں

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کو خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک سے کوئی دشمنی نہیں اور وہ خطے کے تمام ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کرنے کے علاوہ باہمی تعاون کو وسعت دینا چاہتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ خلیجی ممالک اپنے معاملات خود طے کریں اور بیرونی طاقتوں کی فوجی مداخلت سے گریز کیا جائے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ ایران سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات اور رابطوں کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے قطر اور عمان کی جانب سے سفارتی کوششوں اور مثبت کردار کو بھی سراہا۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے سلامتی کا نیا نظام علاقائی ممالک کی قیادت میں تشکیل دیا جانا چاہیے۔ تہران ایسے انتظامات کا حامی ہے جن میں خطے کے ممالک خود اپنی سلامتی سے متعلق فیصلے کریں، جبکہ غیر ملکی طاقتوں کی فوجی موجودگی پر انحصار نہ کیا جائے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات کم کرانے کے لیے ثالث ممالک کی کوششیں جاری ہیں، تاہم واشنگٹن کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائی کی گئی تو تہران بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا کہ امریکی حملوں کی صورت میں ایران کی جوابی کارروائی صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ خطے سے باہر بھی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق امریکی خواہش پر بھی ایران کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھلوانا چاہتا ہے تو اسے پہلے تہران کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ ان کے مطابق ایران کے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد ہی جوہری مذاکرات کا آغاز ممکن ہوگا۔

بشکریہ روزنامہ جسارت