منگل، 3 نومبر، 2026 · 24 جمادی الاول، 1448 ہجری

امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں غیر معمولی معاملات بھی ووٹنگ کا حصہ بنیں گے

قومی خبریں

امریکا میں 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کی نشستوں کے انتخاب کے ساتھ کئی غیر معمولی معاملات بھی ووٹرز کی رائے کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ مختلف ریاستوں میں شہریوں کو پالتو پرندوں کی فروخت، سرکاری اسکولوں میں قومی ترانہ بجانے، ٹریفک کی نگرانی کرنے والے خودکار کیمروں پر پابندی اور شکار و مچھلی پکڑنے کے حق جیسے موضوعات پر فیصلہ کرنے کا موقع ملے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق کیلیفورنیا کے شہر لیمون گروو میں ایک تجویز کے تحت پالتو پرندوں کو صرف جانوروں کے بچاؤ کے مراکز اور پناہ گاہوں سے گود لینے کی اجازت دینے پر غور کیا جارہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عام تجارتی دکانوں اور مراکز میں پالتو پرندوں کی فروخت روکنا ہے، جس کے مستقبل کا فیصلہ ووٹرز کریں گے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکی ریاست الاباما میں شہریوں سے پوچھا جائے گا کہ سرکاری اسکولوں میں ہر ہفتے قومی ترانہ بجانا لازمی قرار دیا جائے یا نہیں۔ اس تجویز کی منظوری کی صورت میں تعلیمی اداروں کو ہفتہ وار بنیادوں پر امریکی قومی ترانہ بجانے کا پابند بنایا جاسکتا ہے۔

ایریزونا میں ووٹرز کے سامنے ٹریفک کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنے والے خودکار کیمروں پر پابندی کی تجویز رکھی جائے گی۔ اس میں تیز رفتاری اور ٹریفک سگنل توڑنے والے ڈرائیوروں کی شناخت کے لیے نئے کیمروں کی تنصیب روکنے کے ساتھ پہلے سے موجود نظام کے استعمال کو محدود کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔

آئیڈاہو میں ایک منفرد مشاورتی ووٹ کے ذریعے شہریوں سے رائے لی جائے گی کہ کس ہتھیار کو ریاست کی سرکاری بندوق قرار دیا جانا چاہیے۔ تاہم اس معاملے میں عوامی رائے حتمی فیصلہ نہیں ہوگی بلکہ ریاستی مقننہ اس حوالے سے آخری فیصلہ کرے گی۔

اسی ریاست میں انگریزی زبان کو آئینی سطح پر سرکاری زبان کا درجہ دینے کی تجویز بھی ووٹنگ کے لیے پیش ہوگی۔ انگریزی پہلے ہی آئیڈاہو کی سرکاری زبان ہے، تاہم نئی تجویز کے ذریعے اس حیثیت کو ریاستی آئین میں شامل کرکے آئینی تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

دوسری جانب کولوراڈو میں شہریوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ شکار اور مچھلی پکڑنے کے حق کو ریاستی آئین میں شامل کرکے قانونی تحفظ دیا جائے یا نہیں۔ اس طرح امریکی وسط مدتی انتخابات میں سیاسی نمائندوں کے انتخاب کے علاوہ روزمرہ زندگی اور ریاستی قوانین سے متعلق کئی غیر معمولی معاملات بھی عوامی رائے کا حصہ بنیں گے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت