ایران معاہدے کا خواہش مند ہے، معاہدہ طے پانے کے امکانات روشن ہیں: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ معاہدے کے حوالے سے کہا ہے کہ تہران سمجھوتا کرنے میں غیر معمولی دلچسپی رکھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پانے کے امکانات زیادہ ہیں، تاہم ایسا نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ جنگ شروع ہوسکتی ہے۔ امریکا اس وقت کسی روایتی جنگ میں مصروف نہیں بلکہ محدود نوعیت کی فوجی کارروائیوں کی صورت حال ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بعض حلقے موجودہ صورت حال کو جنگ قرار دے رہے ہیں، لیکن امریکا اس وقت کسی باقاعدہ روایتی جنگ کا حصہ نہیں ہے۔ ان کے بقول یہ ایک محدود نوعیت کی لڑائی ہے اور اس کی نوعیت عام جنگوں سے مختلف ہے۔
ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ مزید حملوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکا نے آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے دوران ایران پر فضائی حملے کیے اور اس کی جوہری صلاحیت کو نشانہ بنایا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ضرورت پڑنے پر پک ایکس ماؤنٹین کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ امریکی فوج اس کارروائی کو صرف ایک گھنٹے میں مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے امریکی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کسی صورت تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ انہوں نے ایران کو خطرناک ملک قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ایرانی کارروائیوں کے نتیجے میں امریکا کے متعدد شہری ہلاک ہوئے، جن میں قاسم سلیمانی کا نام بھی قابل ذکر ہے، جو اب اس دنیا میں موجود نہیں۔
امریکی صدر نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں پر آنے والے اخراجات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ پر 30 ارب ڈالر خرچ ہونا کوئی بڑی رقم نہیں، کیونکہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا امریکا کے لیے اہم معاملہ ہے۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں پیش رفت کے اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کے دوران متعدد مثبت بات چیت ہوئی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ممکنہ معاہدے کے امکانات کے حوالے سے مطمئن ہیں۔
فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے فی الحال کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی، تاہم معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ ان کے مطابق ایران کو یہ ٹھوس اور قابل تصدیق ضمانت دینا ہوگی کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ تعمیر نہیں کرے گا۔
امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ واشنگٹن سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے کو ترجیح دے رہا ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس سفارتی ذرائع کے علاوہ فوجی اور دیگر متبادل اقدامات کے راستے بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ کی صورت حال کا انحصار ایران کی جانب سے دی جانے والی یقین دہانیوں اور مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت پر ہوگا۔
بشکریہ روزنامہ جسارت