منگل، 3 نومبر، 2026 · 24 جمادی الاول، 1448 ہجری

امریکا کے حد سے زیادہ مطالبات تسلیم نہیں کریں گے، معاہدے کے امکانات تاحال دور ہیں: ایرانی عہدیدار

قومی خبریں
امریکا کے حد سے زیادہ مطالبات تسلیم نہیں کریں گے، معاہدے کے امکانات تاحال دور ہیں: ایرانی عہدیدار

ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات محدود قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ واشنگٹن کے غیر معمولی مطالبات قبول نہیں کرے گا۔ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اس قدر زیادہ ہیں کہ فی الحال جنگ کے خاتمے سے متعلق کسی سمجھوتے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے کہا کہ اگر امریکا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا چاہتا ہے تو اسے ایران کی شرائط پوری کرنا ہوں گی، جس کے بعد جوہری معاملات پر مذاکرات کا آغاز ممکن ہوسکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکی دباؤ کے تحت اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور کسی ایسے مطالبے کو تسلیم نہیں کرے گا جو اس کے لیے ناقابل قبول ہو، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور اختلافات دور کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک بھرپور کوششیں کررہے ہیں۔

ایرانی عہدیدارنے مزید کہا کہ مذاکراتی عمل میں اب بھی کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ اگر امریکا نے ایران پر دوبارہ حملے کیے تو تہران خطے کے اندر اور اس سے باہر بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران جزیرہ قشم پر امریکی حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ امریکی اخبار نے حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے ایران کے جزیرہ قشم کو نشانہ بنایا۔

امریکی عہدیداروں نے اس کارروائی کو دفاعی نوعیت کا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد امریکی اثاثوں کا تحفظ تھا۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی طیارے پر فائرنگ کیے جانے کے بعد جوابی کارروائی کی گئی۔

ایرانی عہدیدار کے تازہ بیان اور جزیرہ قشم پر امریکی حملے کی اطلاعات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں، جبکہ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت