منگل، 3 نومبر، 2026 · 24 جمادی الاول، 1448 ہجری

گردے کے ٹرانسپلانٹ کے بعد صحت بخش غذا کا انتخاب، کن چیزوں کا استعمال کریں اور کن سے بچیں؟

قومی خبریں
گردے کے ٹرانسپلانٹ کے بعد صحت بخش غذا کا انتخاب، کن چیزوں کا استعمال کریں اور کن سے بچیں؟

گردے کی ناکامی انسانی جسم کے لیے ایک سنگین طبی مسئلہ ہے، تاہم گردے کی پیوند کاری کے بعد مریض کو معمول کی زندگی کی طرف واپسی کا موقع مل جاتا ہے۔ اس مرحلے پر صرف کامیاب جراحی ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ مناسب غذا، ادویات کا باقاعدہ استعمال اور طبی ہدایات پر عمل بھی نئے گردے کی صحت برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ متوازن غذائیت نہ صرف جسمانی کمزوری دور کرنے میں مدد دیتی ہے بلکہ زخموں کو جلد مندمل کرنے اور انفیکشن کے خطرات کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق گردے کی پیوند کاری کے بعد مریض کی غذائی ضروریات کو بنیادی طور پر 2 مراحل میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلے مرحلے میں جراحی کے فوری بعد جسم کی بحالی اور نئے گردے کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے پر توجہ دی جاتی ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں طویل مدت تک متوازن خوراک اور احتیاطی تدابیر اختیار کرکے گردے کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

جراحی کے فوری بعد خوراک میں تدریجی تبدیلی ضروری

گردے کی پیوند کاری کے بعد ابتدائی دنوں میں مریض کا جسم جراحی کے اثرات سے گزر رہا ہوتا ہے، اس لیے خوراک کا آغاز عموماً ہلکی اور مائع غذا سے کیا جاتا ہے۔ مریض کی طبی حالت بہتر ہونے اور ہاضمے کے معمول پر آنے کے ساتھ نرم غذا اور بعد ازاں عام خوراک کی طرف پیش رفت کی جاسکتی ہے۔

اس ابتدائی مرحلے میں غذا کا انتخاب خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ جسم کو زخموں کی بحالی، توانائی کی فراہمی اور انفیکشن سے بچاؤ کے لیے مناسب غذائی اجزا درکار ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ جسم میں پانی اور نمکیات کا توازن برقرار رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ نئے گردے پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔

پانی اور توانائی کی مناسب فراہمی پر توجہ دیں

ہسپتال سے گھر منتقل ہونے کے بعد مریض کے لیے پانی کی مناسب مقدار استعمال کرنا صحت یابی کے عمل کا اہم حصہ ہے۔ عمومی طور پر روزانہ کم از کم 2 لیٹر پانی پینے کی تجویز دی جاتی ہے، تاہم گردے کی پیوند کاری کے بعد ہر مریض کے لیے پانی کی ضرورت یکساں نہیں ہوتی۔ نئے گردے کی کارکردگی، پیشاب کی مقدار اور طبی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے معالج پانی کی مقدار کا تعین کرتا ہے۔

اس دوران کیفین والی اشیا کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی مناسب نہیں، کیونکہ ان کے استعمال سے بعض افراد میں پیشاب کی مقدار بڑھ سکتی ہے اور جسم میں پانی کی کمی کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔

جسمانی طاقت بحال رکھنے کے لیے مناسب مقدار میں توانائی فراہم کرنے والی غذا بھی ضروری ہے۔ گندم اور جو جیسے ثابت اناج کو خوراک میں شامل کیا جاسکتا ہے، جبکہ کمزور ہاضمے والے مریض چاول اور سوجی جیسی نسبتاً ہلکی غذائیں استعمال کرسکتے ہیں۔ چینی اور میٹھی اشیا کا زیادہ استعمال کرنے سے بھی گریز کرنا چاہیے، کیونکہ پیوند کاری کے بعد بعض مریضوں کو اسٹیرائڈ ادویات دی جاتی ہیں، جن کے باعث خون میں شکر کی سطح بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔

پروٹین، کیلشیم اور نمکیات کی مقدار متوازن رکھیں

گردے کی بیماری کے دوران جسمانی پٹھوں میں کمزوری پیدا ہوسکتی ہے، اس لیے پیوند کاری کے بعد جسم کی بحالی کے لیے معیاری پروٹین کا استعمال اہم سمجھا جاتا ہے۔ مناسب پروٹین جسمانی بافتوں کی مرمت، زخموں کی بحالی اور پٹھوں کی مضبوطی میں مدد فراہم کرتا ہے۔

مریض کی غذائی ضروریات کے مطابق دالیں، پنیر، انڈے، مچھلی اور مرغی کو خوراک کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح دودھ اور اس سے تیار ہونے والی دیگر غذائیں کیلشیم کی فراہمی میں معاون ثابت ہوتی ہیں، تاہم ان کی مقدار مریض کے خون کے ٹیسٹ اور طبی حالت کے مطابق طے کی جانی چاہیے۔

پیوند کاری کے بعد خون میں پوٹاشیم اور سوڈیم کی مقدار پر بھی خصوصی نظر رکھی جاتی ہے۔ ان نمکیات کی سطح میں غیر معمولی تبدیلیاں نئے گردے کی کارکردگی اور مریض کی مجموعی صحت کو متاثر کرسکتی ہیں، اس لیے غذا میں ان کی مقدار معالج کی ہدایات کے مطابق رکھنا ضروری ہے۔

کچی غذاؤں اور بعض پھلوں کے استعمال میں احتیاط

گردے کی پیوند کاری کے بعد مریض کو ایسی ادویات دی جاتی ہیں جو جسم کے مدافعتی نظام کی سرگرمی کم کرتی ہیں تاکہ جسم نئے گردے کو مسترد نہ کرے۔ ان ادویات کے باعث انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اس لیے خوراک کی صفائی اور تیاری کے طریقے پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔

کچی سبزیوں، سلاد، پھلوں اور بغیر پکے ہوئے انکرتوں میں جراثیم کی موجودگی کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ اس لیے انہیں اچھی طرح دھونا اور محفوظ طریقے سے تیار کرنا ضروری ہے، جبکہ غیر محفوظ یا آلودہ غذاؤں سے مکمل اجتناب کیا جانا چاہیے۔

بعض پھل بھی پیوند کاری کے بعد استعمال ہونے والی ادویات کے اثرات میں تبدیلی پیدا کرسکتے ہیں۔ انار اور گریپ فروٹ سمیت کچھ پھل مخصوص ادویات کے ساتھ نقصان دہ تعامل کا سبب بن سکتے ہیں، اس لیے انہیں خوراک میں شامل کرنے سے پہلے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔

طویل مدت میں متوازن غذا اور وزن پر قابو رکھنا ضروری

جراحی کے بعد جسمانی حالت بہتر ہونے اور مریض کے معمولات بحال ہونے کے ساتھ طویل المدتی غذائی احتیاطوں کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اس دوران نئے گردے کی حفاظت کے لیے صرف خوراک ہی نہیں بلکہ دیگر بیماریوں کو قابو میں رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

شوگر، بلند فشار خون اور خون میں کولیسٹرول کی زیادتی جیسے مسائل گردے کی کارکردگی کو متاثر کرسکتے ہیں، اس لیے ان کی باقاعدہ نگرانی ضروری ہے۔ پیوند کاری کے بعد استعمال ہونے والی بعض ادویات بھوک میں اضافے کا سبب بھی بن سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں وزن بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔

وزن کو متوازن رکھنے کے لیے تازہ سبزیوں، پھلوں اور مناسب مقدار میں متوازن غذا کا استعمال مفید ہے۔ اس کے ساتھ طبی اجازت کے مطابق روزانہ ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمی اور ورزش بھی صحت بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

بازار میں دستیاب ڈبہ بند غذاؤں، میٹھے مشروبات اور ضرورت سے زیادہ تیار شدہ اشیا کا استعمال محدود رکھنا چاہیے۔ گھر میں تیار کردہ تازہ اور صاف ستھری خوراک کو ترجیح دینے سے غذائی اجزا کے حصول کے ساتھ آلودہ غذا کے باعث پیدا ہونے والے خطرات بھی کم کیے جاسکتے ہیں۔

ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے غذائیت کا خیال رکھیں

گردے کی بیماری جسم میں معدنیات کے توازن کو متاثر کرسکتی ہے، جس کے اثرات ہڈیوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اسی لیے پیوند کاری کے بعد ہڈیوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے کیلشیم اور فاسفورس سمیت ضروری غذائی اجزا کی مناسب مقدار حاصل کرنا اہم ہے۔

دودھ، انڈے، دالیں اور دیگر غذائیں ان اجزا کی فراہمی میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں، تاہم ہر مریض کے لیے ان کی مقدار مختلف ہوسکتی ہے۔ خون میں معدنیات کی سطح اور نئے گردے کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے معالج یا ماہر غذائیت خوراک میں ضروری تبدیلیوں کی ہدایت دے سکتا ہے۔

باقاعدہ طبی معائنہ اور احتیاطی تدابیر نئے گردے کی حفاظت کے لیے ناگزیر

گردے کی پیوند کاری کے بعد مریض کو طویل عرصے تک طبی نگرانی میں رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ باقاعدہ معائنے اور خون کے ٹیسٹ کے ذریعے نئے گردے کی کارکردگی، ادویات کے اثرات اور جسم میں مختلف اجزا کی سطح کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

ماہر غذائیت کی مدد سے مریض اپنی طبی حالت کے مطابق خوراک کا منصوبہ بھی تیار کرسکتا ہے، جس سے غذائی ضروریات پوری کرنے اور ممکنہ پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی اور الکحل سے مکمل اجتناب، ذہنی دباؤ میں کمی اور صحت مند طرز زندگی اختیار کرنا بھی پیوند کاری کے بعد طویل اور بہتر زندگی کے لیے اہم ہے۔ تاہم پانی، پروٹین، نمکیات اور دیگر غذائی اجزا کی مقدار ہر مریض کے لیے یکساں نہیں ہوتی، اس لیے کسی بھی غذائی تبدیلی سے پہلے معالج کی ہدایات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت