امریکا میں برڈ فلو کا خطرناک پھیلاؤ، ایک ماہ میں 13 لاکھ سے زائد پرندے متاثر

امریکا میں خطرناک برڈ فلو وائرس ایچ فائیو این ون (H5N1) کے پھیلاؤ میں ایک مرتبہ پھر تیزی آگئی ہے، جس کے باعث مختلف ریاستوں کے پولٹری فارمز میں بڑے پیمانے پر پرندے متاثر ہورہے ہیں۔
تازہ ترین وفاقی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران ملک بھر میں تقریباً 13 لاکھ 20 ہزار پرندے اس وائرس کی زد میں آچکے ہیں، جس نے پولٹری انڈسٹری اور متعلقہ حکام کی تشویش بڑھا دی ہے۔
امریکی ریاست الینوائے کی کلنٹن کاؤنٹی اس وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ قرار دی جا رہی ہے، جہاں ایک ہی مقام پر 9 لاکھ 34 ہزار 600 مرغیوں میں وائرس کی موجودگی رپورٹ ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق متاثرہ پرندوں کی بڑی تعداد کے باعث پولٹری فارمز میں بیماری پر قابو پانے اور مزید پھیلاؤ روکنے کے اقدامات کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
برڈ فلو کے اثرات صرف الینوائے تک محدود نہیں بلکہ مینیسوٹا، وسکونسن اور نارتھ ڈکوٹا میں بھی وائرس کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی محکمہ زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق مینیسوٹا کی روزو کاؤنٹی میں واقع ایک ٹرکی فارم کے 57 ہزار پرندے متاثر ہوئے، جبکہ نارتھ ڈکوٹا کے ایک پولٹری فارم میں 60 ہزار 600 پرندوں میں وائرس کی نشاندہی ہوئی۔ اسی طرح وسکونسن کے ایک فارم میں بھی 41 ہزار 400 پرندے اس بیماری کا شکار ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق برڈ فلو کی وبا ماضی میں بھی امریکی پولٹری انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچا چکی ہے۔ خصوصاً انڈے دینے والی مرغیوں کے فارمز میں وائرس پھیلنے کے بعد بڑی تعداد میں متاثرہ پرندوں کو تلف کرنا پڑا تھا، جس کے نتیجے میں انڈوں کی پیداوار متاثر ہوئی اور امریکی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
موجودہ صورتحال کے باعث ایک مرتبہ پھر انڈوں کی فراہمی اور قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
تشویشناک پہلو یہ ہے کہ H5N1 وائرس صرف پرندوں تک محدود نہیں رہا بلکہ متاثرہ جانوروں سے رابطے میں آنے والے بعض فارم ورکرز بھی اس سے متاثر ہوچکے ہیں اور امریکا میں انسانی ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوچکی ہیں۔
اس صورتحال نے پولٹری فارموں میں کام کرنے والے ملازمین اور جانوروں سے براہ راست رابطے میں رہنے والے افراد کی صحت کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کردیے ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جسارت