پیٹرولیم لیوی پر ریلیف نہ ملنے کی صورت میں دھرنے پھر شروع کریں گے: لیاقت بلوچ

پشاور:قائم مقام امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے خبردار کیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی میں عوام کو ریلیف نہ دینے کی صورت میں احتجاجی دھرنے دوبارہ شروع کردیے جائیں گے جبکہ حکومتی سطح پر درست فیصلے نہ کیے گئے تو جماعت اسلامی اسلام آباد کی جانب مارچ بھی کرے گی۔
پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کا حتمی مرحلہ کل اسلام آباد میں ہوگا۔ جماعت اسلامی عوام کو ریلیف دلانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور اگر مذاکرات کے نتیجے میں مطلوبہ پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پیٹرولیم لیوی کے بوجھ سے عوام کو نجات دلانا جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ ہے۔ حکومت کی جانب سے اس معاملے پر ریلیف فراہم نہ کیے جانے کی صورت میں دھرنوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ اس اقدام نے پورے ملک میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ جماعت اسلامی نے پہلے ہی روز صوبے میں گورنر راج کے فیصلے کو مسترد کردیا تھا اور اس حوالے سے اپنا واضح مؤقف سامنے رکھا تھا۔
قائم مقام امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ گورنر راج کے نفاذ کے باوجود خیبرپختونخوا میں کوئی بڑا ردعمل سامنے نہ آنے کی وجہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے اندرونی اختلافات ہیں، پی ٹی آئی کے قائدین کے درمیان شدید انتشار پایا جاتا ہے جبکہ عوام کا بھی اب جماعت پر اعتماد پہلے جیسا نہیں رہا۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل اور حکومتی فیصلوں میں بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر عوام کو ریلیف فراہم کرنا ضروری ہے، بصورت دیگر جماعت اسلامی احتجاجی تحریک کو دوبارہ متحرک کرے گی۔
بشکریہ روزنامہ جسارت