بھارت میں 13 کروڑ ووٹرز کے نام خارج، مودی حکومت اور الیکشن کمیشن شدید تنقید کی زد میں

نئی دہلی: بھارت میں انتخابی فہرستوں سے 13 کروڑ سے زائد ووٹرز کے نام اچانک خارج کیے جانے کے بعد مودی حکومت اور الیکشن کمیشن کو شدید عوامی اور سیاسی تنقید کا سامنا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اس بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج نے ملک بھر میں جمہوری عمل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کانگریس رہنما راہول گاندھی کی قیادت میں ہزاروں مظاہرین نئی دہلی کی سڑکوں پر نکل آئے اور چیف الیکشن کمشنر سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے رام لیلا میدان کی جانب مارچ کیا اور اپنے جمہوری حقوق کے تحفظ کا اعادہ کیا۔
اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن نے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو سیاسی فائدہ پہنچانے کی غرض سے ووٹر فہرستوں میں جان بوجھ کر ردوبدل کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ عمل منصفانہ انتخابات کے انعقاد کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ اور سازش ہے۔
علاوہ ازیں نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی نے بھی اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ملک گیر سطح پر بڑھتے ہوئے اس تنازع نے عام شہریوں میں بھی شدید تشویش پیدا کر دی ہے جو اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہونے پر سراپا احتجاج ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹوں سے اتنی بڑی تعداد میں ناموں کا اخراج محض کوئی تکنیکی یا انتظامی غلطی نہیں ہو سکتی۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام براہ راست شہریوں کے حقِ رائے دہی پر حملہ ہے جو بھارت کے جمہوری نظام کی شفافیت کو داغدار کر رہا ہے۔
ملک بھر میں جاری اس احتجاجی لہر نے حکومت کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ عالمی میڈیا بھی اس معاملے کو انتخابی شفافیت کے تناظر میں کوریج دے رہا ہے۔
اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ ان فہرستوں کی فوری جانچ کی جائے اور تمام متاثرہ افراد کو حق رائے دہی واپس ملنا چاہیے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت