منگل، 3 نومبر، 2026 · 24 جمادی الاول، 1448 ہجری

خیبرپختونخوا میں تبادلوں کے نام پر کروڑوں روپے وصول کیے گئے، ثمر ہارون بلور

قومی خبریں
خیبرپختونخوا میں تبادلوں کے نام پر کروڑوں روپے وصول کیے گئے، ثمر ہارون بلور

پشاور:گورنر خیبرپختونخوا کی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے قریبی ساتھی حادی پتنگ نے سرکاری محکموں میں تقرریوں، تبادلوں اور مختلف سرکاری کاموں کے لیے مبینہ طور پر کروڑوں روپے وصول کیے جبکہ اس مقصد کے لیے باقاعدہ نرخ مقرر کیے گئے تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مالی بے ضابطگیوں کے بعد حادی پتنگ ملک سے فرار ہوگئے ہیں اور ان کی واپسی کے لیے متعلقہ حکومت اور انٹرپول سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے کہا کہ حادی پتنگ نے مبینہ طور پر سرکاری معاملات میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایک منڈی قائم کر رکھی تھی، جہاں افسران کی تقرریوں، تبادلوں اور سرکاری کاموں کے لیے باقاعدہ نرخ مقرر تھے۔ ان کے بقول مقررہ نرخوں کے تحت اربوں روپے کمائے گئے۔

ثمر ہارون بلور نے دعویٰ کیا کہ سرکاری افسران کے تبادلے ہر 2 ہفتے بعد کیے جاتے رہے اور ہر تبادلے کے عوض کروڑوں روپے وصول کیے گئے، خیبرپختونخوا کے سرکاری انتظامی نظام کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا اور اہم سرکاری معاملات کو مالی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا۔

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے بعد حادی پتنگ ملک سے فرار ہوگئے۔ ان کی واپسی کے لیے متعلقہ ملک کی حکومت اور انٹرپول سے رابطے کیے گئے ہیں تاکہ قانونی طریقہ کار کے تحت انہیں واپس لایا جا سکے، ملک سے لوٹی گئی دولت واپس لانے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔

مشیر اطلاعات نے صوبے کی مالی اور انتظامی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی تحصیل میونسپل انتظامیہ، جامعات اور اسپتالوں کے پاس ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے مطلوبہ رقم دستیاب نہیں۔ نرسنگ اسٹاف اور جامعات کے پروفیسرز کی تنخواہوں کے لیے بھی فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔

ثمر ہارون بلور کے مطابق صحت، مائننگ اور دیگر سرکاری محکموں میں بھی مختلف نوعیت کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، جس محکمے کے معاملات کی تحقیقات کی جاتی ہیں، وہاں کسی نہ کسی سطح پر بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ہر محکمے کے مشیر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ محکمے میں ہونے والی تحقیقات مکمل کریں اور ان کے نتائج عوام کے سامنے پیش کریں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد جن افراد کے خلاف الزامات ثابت ہوں گے، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

مشیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت سرکاری محکموں میں مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے معاملات کو سامنے لانے کے لیے تحقیقات جاری رکھے گی اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوشش کرے گی۔

دوسری جانب ملکی سلامتی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پاکستانی آبادی کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا جواب 10 گنا زیادہ شدت سے دیا جائے گا۔

بشکریہ روزنامہ جسارت