منگل، 3 نومبر، 2026 · 24 جمادی الاول، 1448 ہجری

مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا سے مذاکرات کیلیے ایرانی حکومت کو خصوصی اختیارات دے دیے

قومی خبریں
مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا سے مذاکرات کیلیے ایرانی حکومت کو خصوصی اختیارات دے دیے

تہران:ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ جاری جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کے سلسلے میں ایرانی حکومت کو خصوصی اختیارات تفویض کر دیے ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے تصدیق کی ہے کہ حکومت تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر مسعود پزیشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت امریکا کے ساتھ تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت کو بعض خصوصی اختیارات دیے ہیں تاکہ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

ایرانی صدر نے زور دیا کہ جنگ کے خاتمے اور موجودہ کشیدگی کے حل کے لیے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا حکومت کی کوششوں کا حصہ ہے، ایران سفارتی ذرائع سے تنازع کو ختم کرنے کے امکانات پر کام کر رہا ہے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی ایرانی صدر کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر ایرانی حکومت کو اختیارات تفویض کیے ہیں،ان اختیارات کی نوعیت، دائرہ کار اور حدود کے بارے میں تاحال تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

ابھی تک ایران اور امریکا کے درمیان کسی حتمی معاہدے کا اعلان بھی نہیں کیا گیا، تاہم دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے خاتمے اور تنازع کے حل کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔ مذاکراتی عمل میں پیش رفت کے امکانات کے باعث آئندہ ملاقاتوں اور مجوزہ معاہدے پر بات چیت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی مذاکراتی وفد قطر میں ثالثوں سے ملاقات کے بعد واپس روانہ ہو چکا ہے، جہاں امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اس دوران ایک مجوزہ معاہدے کا مسودہ بھی زیرِ گردش ہے، جس پر فریقین کی جانب سے غور و خوض جاری ہے۔

حکام کے مطابق ایرانی وفد کی واپسی کو مذاکرات کی ناکامی یا سفارتی عمل میں تعطل قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ وفد نے معاہدے کے مسودے کا جائزہ لینے اور مختلف نکات پر مزید غور کرنے کے لیے وقت لیا ہے، آئندہ ملاقات کا امکان بھی موجود ہے، جس میں معاہدے کی شرائط اور جنگ کے خاتمے سے متعلق امور پر مزید بات چیت ہو سکتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت