منگل، 3 نومبر، 2026 · 24 جمادی الاول، 1448 ہجری

نظامِ شمسی میں ایک نئے ممکنہ بونے سیارے کی دریافت، ماہرین حیران

قومی خبریں
نظامِ شمسی میں ایک نئے ممکنہ بونے سیارے کی دریافت، ماہرین حیران

کراچی: نظامِ شمسی میں ایک بہت بڑا ممکنہ بونا سیارہ دریافت کر لیا گیا ہے، جس کی جسامت کے بارے میں ابتدائی اندازوں نے ماہرینِ فلکیات کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس نئے خلائی جرم کا قطر 370 سے 930 میل کے درمیان بتایا جا رہا ہے اور اگر اس کا قطر زیادہ سے زیادہ 930 میل ثابت ہوا تو یہ نظامِ شمسی کے بڑے بونے سیاروں میں جگہ بنا سکتا ہے۔

دریافت ہونے والے اس پراسرار خلائی جرم کو عارضی طور پر 2026 ای ڈی 183 کا نام دیا گیا ہے، اگر مزید تحقیق کے بعد اسے باضابطہ طور پر بونا سیارہ قرار دے دیا گیا تو اسے یونانی نام دیا جا سکتا ہے۔

اس دریافت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ممکنہ طور پر یہ نظامِ شمسی میں پہلے سے شناخت شدہ بونے سیاروں کے محدود گروپ میں شامل ہو سکتا ہے۔ اس گروپ میں سیرس، پلوٹو، ہاؤمیا، میک میک اور ایریس جیسے معروف بونے سیارے شامل ہیں۔

ماہرین کے ابتدائی اندازوں کے مطابق اگر نئے دریافت ہونے والے خلائی جرم کا قطر 930 میل تک پہنچتا ہے تو اس کی چوڑائی برطانیہ کی لمبائی سے بھی زیادہ ہوگی، جو اس کی غیر معمولی جسامت کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ اہم دریافت چلی میں ایک 8800 فٹ بلند پہاڑ کی چوٹی پر نصب جدید اور طاقتور ویرا سی روبن دوربین کی مدد سے ممکن ہوئی۔ یہ دوربین نظامِ شمسی سمیت کائنات کے دور دراز حصوں کا مسلسل مشاہدہ کرنے اور خلائی اجسام کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

ماہرِ فلکیات میتھیو ہولمین نے 2026 کے دوران اس دوربین سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک جدید کمپیوٹر پروگرام استعمال کیا۔ یہ پروگرام اربوں حرکت کرتے خلائی اجسام کی نشاندہی اور ان کی نقل و حرکت کا جائزہ لے رہا تھا کہ اسی دوران اس کی نظر 2026 ای ڈی 183 پر پڑی۔

کمپیوٹر پروگرام کے ذریعے سامنے آنے والی اس غیر معمولی جسامت کے خلائی جرم کی موجودگی نے ماہرین کی توجہ حاصل کر لی، جس کے بعد اس کے بارے میں مزید تحقیق شروع کی گئی۔

ابھی اسے باضابطہ طور پر بونا سیارہ قرار نہیں دیا گیا۔ اس کے حجم، ساخت اور دیگر خصوصیات کے تعین کے لیے مزید مشاہدات اور تحقیق درکار ہوگی۔ اگر اس کی بونے سیارے کی حیثیت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ نظامِ شمسی کے بارے میں سائنسی معلومات میں ایک اہم اضافہ ہوگا اور ممکنہ طور پر بونے سیاروں کی فہرست بھی وسیع ہو جائے گی۔

بشکریہ روزنامہ جسارت