پیر، 2 نومبر، 2026 · 23 جمادی الاول، 1448 ہجری

نورین نیازی کی بیٹیوں سے جیل میں ملاقات کرانے کا حکم

قومی خبریں

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کی دونوں بیٹیوں سے جیل میں صبح 10 بجے ایک گھنٹے کے لیے ملاقات کرانے کا حکم جاری کر دیا۔

اس کے ساتھ ہی عدالت نے نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی نظربندی کے نوٹیفکیشن میں توسیع پر ڈپٹی کمشنر لاہور کو 4 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

اطلاعات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کی جج جسٹس عبہر گل خان نے عمران خان کی بھانجی سکینہ اور بھانجے شاہ ریز کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر سماعت کی۔

درخواست میں بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرگان کی نظربندی کے نوٹیفکیشن میں کی جانے والی توسیع کو چیلنج کیا گیا تھا۔

سماعت کے دوران عدالتِ عالیہ نے حکم دیا کہ نورین نیازی کی ان کی دونوں بیٹیوں سے ایک گھنٹے کی ملاقات جیل میں کرائی جائے، وکیل اس ملاقات کے حوالے سے ڈی سی لاہور کو باضابطہ درخواست دے گا اور ڈی سی لاہور کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس درخواست پر عمل درآمد کرتے ہوئے کل صبح 10 بجے ملاقات کا انتظام کریں۔

بتایا گیا ہے کہ سماعت میں عدالتی حکم پر سیکرٹری داخلہ پنجاب کی جانب سے تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی، اس موقع پر پنجاب حکومت کے قانون دان نے عدالت کو بتایا کہ نورین نیازی کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کا مکمل علاج کرایا گیا۔

بعد ازاں ڈاکٹروں کی ہدایت پر انہیں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا، دورانِ علاج 29 اکتوبر کو نورین نیازی کی ان کی بیٹی حاجرہ نیازی سے ملاقات بھی کروائی جا چکی ہے۔

سماعت کے موقع پر لاہور ہائیکورٹ نے نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی نظربندی کی مدت میں توسیع کے معاملے پر ڈی سی لاہور کی عدم پیشی یا وضاحتی موقف کے پیشِ نظر انہیں 4 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کی ہدایت کی تاکہ وہ اس توسیع کے قانونی جواز پر اپنا بیان ریکارڈ کروا سکیں۔

علاوہ ازیں عدالت نے علیمہ خانم کی نظربندی کی توسیع کے خلاف دائر کردہ درخواست پر مزید سماعت آئندہ ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی۔

بشکریہ روزنامہ جسارت