پیر، 2 نومبر، 2026 · 23 جمادی الاول، 1448 ہجری

ایران کا خلیجی ممالک سے اختلافات ختم کرنے کا اعلان، مذاکراتی وفد قطر سے روانہ ہوگیا

قومی خبریں

تہران: ایران نے خلیجی ممالک اور خطے کے دیگر پڑوسیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات اور دیرپا امن و سلامتی کے قیام کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کسی ملک سے دشمنی نہیں رکھتا، تاہم اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے معاملے پر کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ بعض خلیجی ممالک نے اپنی سلامتی کے لیے امریکا کی فوجی موجودگی پر حد سے زیادہ انحصار کر رکھا ہے، جبکہ کچھ ریاستیں واشنگٹن کے ساتھ فوجی اور دیگر معاملات میں فعال تعاون بھی کر رہی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین، فضائی حدود اور تنصیبات کو ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ملک کی سرزمین کو ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی یا شہریوں کی جان و سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا تو تہران خاموش نہیں رہے گا۔

اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک ایک دوسرے کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیں۔ اعتماد کی فضا اسی صورت میں قائم ہوسکتی ہے جب اعتماد سازی کی کوششیں یک طرفہ ہونے کے بجائے تمام فریقوں کی جانب سے کی جائیں۔

ادھر ایران کی سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، جہاں مذاکراتی وفد قطر میں ثالثوں کے ساتھ 3 روزہ مشاورت مکمل کرنے کے بعد اتوار کو دوحہ سے روانہ ہوگیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مذاکرات سے واقف ایک عہدیدار نے بتایا کہ ایرانی وفد کی واپسی کا تعلق بات چیت میں کسی رکاوٹ، اختلاف یا تعطل سے نہیں تھا۔

عہدیدار کے مطابق دوحہ میں ہونے والی مشاورت کا بنیادی مقصد ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کی راہیں تلاش کرنا تھا۔ اس سلسلے میں ثالثوں کے ساتھ سفارتی رابطوں اور مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب 3 نومبر کو امریکا میں وسط مدتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد خطے میں جاری جنگ ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کرسکتی ہے۔

ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری پر زور اور دوحہ میں ثالثوں کے ذریعے جاری مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت