خیبر پختونخوا کے 14 محکموں میں 3 ارب 58 کروڑ کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

پشاور: تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت کے دور میں مختلف محکموں کے آڈٹ کے دوران 3 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں اور مشکوک اخراجات کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ میں ایک ارب 20 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے ٹھیکوں کی مشکوک اور غیر شفاف منظوری، ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں میں 90 کروڑ 81 لاکھ روپے سے زائد کی اضافی ادائیگیوں اور 60 کروڑ روپے سے زائد کے غیر مجاز اخراجات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹھیکیداروں کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزیوں کے باوجود کارروائی نہ کرنے کے باعث بھی 37 کروڑ 85 لاکھ روپے سے زائد کا مالی نقصان ہوا۔
آڈٹ سال 2024-25 کے دوران قواعد و ضوابط کی پابندی سے متعلق پہلے مرحلے میں آڈٹ کے لیے منتخب 28 پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران میں سے 14 انتظامی محکموں کا جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران 11 کروڑ 70 لاکھ 9 ہزار روپے کی ریکوری کی گئی، جس کی آڈٹ حکام نے بھی تصدیق کی ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت