پیر، 2 نومبر، 2026 · 23 جمادی الاول، 1448 ہجری

نیتن یاہو کے دباؤ پر ٹرمپ ایران کے خلاف جوہری حملہ کرسکتے ہیں: امریکی صحافی

قومی خبریں
نیتن یاہو کے دباؤ پر ٹرمپ ایران کے خلاف جوہری حملہ کرسکتے ہیں: امریکی صحافی

امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اپنے سیاسی مسائل سے توجہ ہٹانے اور ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈال رہے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا ایران کے خلاف جوہری حملے کا انتہائی خطرناک آپشن بھی اختیار کرسکتا ہے۔

امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل میں انتخابی نتائج سے پریشان نیتن یاہو کو درپیش سیاسی مشکلات سے نکلنے کے لیے ایک بار پھر ٹرمپ اور جنگ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے امریکی انتظامیہ میں اپنے قریبی ساتھیوں کے ذریعے ہر ممکن دباؤ ڈال رہے ہیں۔

امریکی صحافی کا کہنا تھا کہ ایران کے پہاڑوں کے اندر تعمیر کی گئی زیر زمین سرنگوں اور تنصیبات تک رسائی حاصل کرنا امریکی روایتی ہتھیاروں کے لیے آسان نہیں، جس کے باعث ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان بھی زیر غور آسکتا ہے۔

ٹکر کارلسن نے خبردار کیا کہ نیتن یاہو کی جانب سے مسلسل دباؤ کے نتیجے میں ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف جوہری حملے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ ان کے اس بیان نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کردی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرچکا ہے، تاہم پِک ایکس ماؤنٹین سمیت صرف 1 یا 2 مقامات باقی رہ گئے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے محض 10 منٹ درکار ہوں گے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت