پیر، 2 نومبر، 2026 · 23 جمادی الاول، 1448 ہجری

کراچی میں چوری اور چھینے گئے موبائل فونز کے شناختی نمبر تبدیل کرنے والے 15 ملزمان گرفتار

قومی خبریں
کراچی میں چوری اور چھینے گئے موبائل فونز کے شناختی نمبر تبدیل کرنے والے 15 ملزمان گرفتار

کراچی: ضلع وسطی پولیس نے چوری اور چھینے گئے موبائل فونز کی غیر قانونی خرید و فروخت اور ان کی ڈیجیٹل شناخت تبدیل کرنے میں ملوث منظم گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 15 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 435 موبائل فونز، جن میں قیمتی آئی فونز بھی شامل ہیں، برآمد کرلیے جبکہ شناخت تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس بھی تحویل میں لے لیے گئے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایس ایس پی ضلع وسطی ڈاکٹر محمد عمران خان کا کہنا ہے کہ خواجہ اجمیر نگری، نیو کراچی، تیموریہ اور گلبہار کے علاقوں میں بیک وقت کارروائیاں کرکے موبائل فونز کی غیر قانونی خرید و فروخت میں سرگرم نیٹ ورک کا سراغ لگایا گیا۔ مختلف پولیس ٹیموں نے چار تھانوں کی حدود میں کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 15 ملزمان کو گرفتار کیا۔

پولیس ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان سے 435 موبائل فونز برآمد ہوئے، جن میں 37 ایسے فونز شامل ہیں جن کی بین الاقوامی موبائل شناختی نمبر میں ردوبدل کیا گیا تھا، جبکہ 9 چوری اور چھینے گئے اینڈرائیڈ موبائل فونز بھی پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیے۔ کارروائیوں کے دوران شناختی نمبروں کی تبدیلی میں استعمال ہونے والے 5 کمپیوٹرز اور 7 جدید لیپ ٹاپس بھی برآمد کیے گئے۔

پولیس نے مختلف موبائل مارکیٹوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا۔ تھانہ خواجہ اجمیر نگری کی پولیس نے باڑا مارکیٹ سے 4 افراد کو حراست میں لیا، نیو کراچی پولیس نے جیو موبائل مارکیٹ میں کارروائی کرکے 4 ملزمان گرفتار کیے، تیموریہ پولیس نے سرینہ موبائل مارکیٹ سے 3 افراد کو پکڑا جبکہ گلبہار پولیس نے 4 ملزمان کو گرفتار کیا۔

ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان جدید کمپیوٹرز اور خصوصی سافٹ ویئر کی مدد سے موبائل فونز کے بین الاقوامی شناختی نمبروں میں تبدیلی کرکے ان کی اصل شناخت چھپاتے تھے۔ گروہ مبینہ طور پر ایسے موبائل فونز کی بھی غیر قانونی پیچنگ کرتا تھا جو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی میں رجسٹرڈ نہیں تھے یا قسطوں کی عدم ادائیگی کے باعث بند کیے گئے تھے۔ ڈیجیٹل ردوبدل کے بعد چوری اور چھینے گئے فونز کو مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا تھا۔

ایس ایس پی ضلع وسطی ڈاکٹر محمد عمران خان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پولیس کو چوری اور چھینے گئے موبائل فونز کی تلاش اور ان کی شناخت میں مشکلات پیش آرہی تھیں۔ گرفتار ملزمان کئی ماہ سے موبائل فونز کی پیچنگ اور بین الاقوامی شناختی نمبروں میں تبدیلی کا کام کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد میں ایسے ملزمان بھی شامل ہیں جن کی مختلف موبائل مارکیٹوں میں مرمت کی دکانیں ہیں، جبکہ بعض اپنے گھروں میں بیٹھ کر یہ غیر قانونی سرگرمیاں انجام دیتے تھے۔ ان کے مطابق یہ ایک سفید پوش اور تکنیکی نوعیت کا جرم ہے، جو موبائل فون چھیننے کی وارداتوں سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر عمران خان نے مزید بتایا کہ ملزمان شہر سے باہر بھی موبائل فونز فروخت کرتے تھے۔ گرفتار افراد کی تفصیلات قومی سائبر جرائم تحقیقاتی ادارے کے ساتھ بھی شیئر کی جائیں گی تاکہ اس نیٹ ورک کے خلاف مزید کارروائی ممکن بنائی جاسکے۔

پولیس حکام کے مطابق برآمد کیے گئے موبائل فونز کے اعداد و شمار اور شناختی معلومات کی جانچ پڑتال جاری ہے، جس کے ذریعے اصل مالکان تک پہنچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مالکان کی تصدیق اور قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد موبائل فونز ان کے حوالے کردیے جائیں گے۔

ایس ایس پی ضلع وسطی نے بتایا کہ سندھ حکومت اور پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے اسٹریٹ کرائم میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ گرفتار ملزمان کے خلاف متعلقہ تھانوں میں مقدمات درج کرکے مزید تفتیش اور قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ضلع وسطی پولیس کی کارروائی کو سراہتے ہوئے ڈی آئی جی ویسٹ، ایس ایس پی ڈاکٹر عمران خان اور ان کی ٹیم کو شاندار کارکردگی پر مبارک باد دی اور حوصلہ افزائی کی۔

بشکریہ روزنامہ جسارت