اسرائیل کی غزہ پر وحشیانہ بمباری، 5 پولیس افسران سمیت 8 فلسطینی شہید

غزہ: اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر کی گئی 2 مختلف کارروائیوں میں کم از کم 8 فلسطینی شہری شہید ہو گئے ہیں جن میں پولیس کے 5 اہلکار بھی شامل ہیں۔
مقامی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان حملوں کا نشانہ غزہ سٹی اور خان یونس کا علاقہ بنا جہاں اسرائیلی فوج نے بلا اشتعال بمباری کی۔
غزہ کی وزارت داخلہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ جنوبی علاقے خان یونس میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے کی گئی کارروائی میں 5 پولیس افسران موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
اُدھر غزہ سٹی میں بھی اسرائیلی طیاروں نے بمباری کی جس کے نتیجے میں 3 مزید فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسرائیلی فوج نے خان یونس میں 5 افراد کو نشانہ بنانے کا اعتراف کیا ہے تاہم انہوں نے اپنے روایتی انداز میں ان افراد کو دہشت گرد قرار دینے کا بے بنیاد الزام عائد کیا ہے۔
غزہ سٹی میں ہونے والے حملے کے بارے میں اسرائیلی فوج نے کسی قسم کی تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے۔
یاد رہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ رک نہیں سکا۔ معاہدے کے تحت حماس نے غیر مسلح ہونے کی شرط بھی مان لی تھی۔
اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور معاہدے کے باوجود غزہ سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا تاحال نہیں ہو سکا۔ فلسطینیوں کو ان کے اپنے گھروں سے مسلسل بے دخل کیا جا رہا ہے جس سے علاقائی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
عالمی برادری نے اس تازہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ اسرائیلی کارروائیوں سے نہتے فلسطینیوں کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر حالات کو معمول پر لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت