وفاقی وزارتِ صحت اور ‘صحت کہانی’ کے اشتراک سے ‘پیرالیل اسپتال’ پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے کا آغاز

اسلام آباد: وفاقی وزارت صحت نے صحت کہانی کے اشتراک سے جدید طبی سہولیات کی فراہمی اور ٹیلی میڈیسن کے فروغ کے لیے پیرالیل اسپتال منصوبے کے دوسرے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کردیا۔ منصوبے کے تحت اسلام آباد اور کراچی سمیت مختلف علاقوں میں شہریوں کو 24 گھنٹے مفت طبی معائنے، تشخیص اور ادویات کی فراہمی کی سہولت میسر آئے گی جبکہ بنیادی مراکز صحت کو جدید ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرکے علاج کی سہولیات عوام کی دہلیز تک پہنچانے کا عمل تیز کردیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے منصوبے کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد اب اس نظام کو مزید وسعت دی جارہی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد عام شہریوں کو علاج معالجے کی سہولیات کے لیے بڑے اسپتالوں کا رخ کرنے سے بچانا اور طبی خدمات تک رسائی آسان بنانا ہے۔
تقریب میں صحت کہانی کی سربراہ سارہ اور ان کی ٹیم سمیت طبی ماہرین نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر منصوبے کے مختلف پہلوؤں، ڈیجیٹل طبی نظام اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں تفصیلات پیش کی گئیں۔
حکام کے مطابق عام اسپتالوں میں دوپہر 2 بجے کے بعد بیرونی مریضوں کے شعبے میں ڈاکٹروں کی دستیابی محدود ہوجاتی ہے، جس کے باعث شہریوں کو علاج کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پیرالیل ہسپتال منصوبے کے تحت قائم مراکز میں اس مسئلے کے حل کے لیے دن رات 24 گھنٹے طبی خدمات فراہم کی جارہی ہیں، جہاں مریض کسی بھی وقت معائنہ کرانے اور طبی مشورہ حاصل کرنے کے لیے رجوع کرسکتے ہیں۔
منصوبے کے تحت ہر مرکز میں تربیت یافتہ نرسنگ عملہ اور جدید طبی آلات نصب کیے گئے ہیں۔ ان آلات کی مدد سے مریض کی نبض اور دیگر اہم جسمانی علامات کی پیمائش کرکے معلومات دور بیٹھے ڈاکٹر تک ڈیجیٹل نظام کے ذریعے پہنچائی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر مریض کی کیفیت کا جائزہ لینے کے بعد براہ راست آن لائن گفتگو کرتا ہے اور مرض کی نوعیت کے مطابق علاج تجویز کرتا ہے۔
طبی معائنے کے بعد ڈاکٹر کی جانب سے تجویز کردہ ادویات کا نسخہ فوری طور پر متعلقہ مرکز کے ڈیجیٹل طبی اسٹور کو موصول ہوجاتا ہے، جہاں سے مریض کو مکمل طور پر مفت ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام کے ذریعے طبی معائنے سے لے کر ادویات کی فراہمی تک تمام مراحل کو ایک مربوط ڈیجیٹل نظام کے تحت انجام دیا جارہا ہے۔
منصوبے میں عام طبی معائنے کے علاوہ مختلف شعبوں کے ماہر ڈاکٹروں کی خدمات بھی شامل کی گئی ہیں۔ مخصوص دنوں میں بچوں کے امراض، امراض قلب، خواتین کے امراض، ذیابیطس، جلدی امراض اور عمومی طب کے ماہرین مریضوں کو بلا معاوضہ طبی مشورے فراہم کرتے ہیں۔
حکام کے مطابق نجی طبی مراکز میں بعض ماہر ڈاکٹروں کے معائنے کی فیس 5,000 روپے تک ہوتی ہے، تاہم پیرالیل ہسپتال کے تحت قائم مراکز میں یہی سہولت عوام کو مفت فراہم کی جارہی ہے۔ اس اقدام سے کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کے افراد کو مہنگے نجی علاج کے اخراجات سے بچانے میں مدد مل رہی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں صحت کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام بنیادی مراکز صحت کو آن لائن طبی نظام سے منسلک کردیا گیا ہے۔ اس طرح معمولی بیماریوں کے علاج اور ابتدائی طبی معائنے کے لیے شہریوں کو بڑے اسپتالوں تک جانے کی ضرورت نہیں رہے گی، جبکہ پیچیدہ امراض کی صورت میں مریضوں کو مناسب طبی رہنمائی فراہم کی جاسکے گی۔
کراچی میں بھی منصوبے کے دائرہ کار کو وسیع کیا جارہا ہے۔ حکام کے مطابق شہر میں پہلے سے 4 مراکز فعال ہیں، جبکہ مزید مراکز کے قیام پر کام جاری ہے۔ منصوبہ بندی کے تحت کراچی میں مجموعی طور پر 20 مراکز قائم کیے جائیں گے، جن میں 10 مراکز سرکاری وسائل سے اور 10 عوامی و نجی شراکت داری کے تحت قائم کیے جانے کا منصوبہ ہے۔
حکام نے بتایا کہ پیرالیل ہسپتال منصوبے کے ذریعے اب تک ہزاروں مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی جاچکی ہیں۔ اس نظام کے تحت بعض پیچیدہ بیماریوں کی بروقت تشخیص بھی ممکن ہوئی ہے، جن میں بچوں کے دل میں سوراخ جیسے امراض شامل ہیں۔ بروقت تشخیص کے باعث مریضوں کو مزید علاج کے لیے مناسب طبی مراکز تک پہنچانے میں مدد ملتی ہے۔
منصوبے کے تحت پاکستان، ملائیشیا، قطر، لاہور اور کراچی سمیت مختلف مقامات سے 500 سے زائد نئے اور تجربہ کار ڈاکٹروں پر مشتمل طبی ماہرین کا نیٹ ورک تشکیل دیا گیا ہے۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے مختلف شعبوں کے ماہرین کی خدمات آن لائن فراہم کی جارہی ہیں، جس سے دور دراز علاقوں میں رہنے والے مریضوں کو بھی خصوصی طبی مشوروں تک رسائی حاصل ہورہی ہے۔
وفاقی وزارت صحت اور صحت کہانی کے درمیان شراکت داری کے تحت حکومت مراکز کے لیے عمارتیں اور مقامی عملہ فراہم کررہی ہے، جبکہ صحت کہانی ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کرنے، انہیں نظام سے منسلک کرنے اور معاوضوں کے انتظامات کی ذمہ داری ادا کررہی ہے۔ اس اشتراک کا مقصد پہلے سے قائم سرکاری اسپتالوں اور طبی عملے پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر عوام کو علاج کی بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام سے مریضوں کو علاج کے لیے طویل سفر، سفری اور ایندھن کے اخراجات، اسپتالوں میں لمبی قطاروں اور انتظار کی مشکلات سے نجات مل رہی ہے۔ پیرالیل ہسپتال منصوبے کی توسیع سے نہ صرف طبی سہولیات تک عوام کی رسائی بہتر ہوگی بلکہ بڑے اسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
بشکریہ روزنامہ جسارت