ورلڈ کپ کے لیے فخر زمان قومی ٹیم کا اہم اثاثہ قرار

لاہور: فخر زمان نے کرکٹ کی دنیا میں اپنی محنت اور بے لوث انداز سے ایک منفرد مقام بنایا ہے۔ وہ برسوں سے ٹیم کے ساتھ وابستہ ہیں لیکن انہوں نے کبھی کپتانی کی خواہش نہیں کی اور نہ ہی کسی قسم کا شکوہ کیا، جو ان کے اعلیٰ کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
سری لنکا کے خلاف مشکل ہدف کے تعاقب میں جب ٹیم کی 2 وکٹیں جلد گر گئیں، تب بھی فخر زمان نے انتہائی اطمینان کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے نوجوان کھلاڑی سعد بیگ کے ساتھ مل کر شاندار شراکت قائم کی اور اپنی بیٹنگ کے ذریعے پاکستان کو فتح سے ہمکنار کروایا۔
فخر زمان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کو ٹیم پر ترجیح نہیں دیتے۔ وہ سوشل میڈیا کی چکا چوند اور خود ساختہ شہرت سے دور رہتے ہیں۔ ان کے برعکس، دیگر کھلاڑیوں میں اکثر یہ خوف پایا جاتا ہے کہ کوئی نوجوان ان کی جگہ نہ لے لے، جس کے باعث وہ نئے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔
فخر زمان نے ہمیشہ نئے ٹیلنٹ کو آگے بڑھانے میں مدد کی ہے۔ انہوں نے ماضی میں بھی ڈومیسٹک کرکٹ کے دوران صاحبزادہ فرحان جیسے کھلاڑیوں کو خود تلاش کیا اور انہیں موقع فراہم کیا۔ ان کا یہ رویہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک حقیقی ٹیم مین اور بہترین استاد ہیں۔
حالیہ ٹرائنگولر سیریز میں ٹیم مینجمنٹ کے اعتماد نے درست ثابت کیا کہ مشکل حالات میں فخر زمان ہی وہ کھلاڑی ہیں جو میچ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔ ناقدین کی تنقید کے باوجود ان کی سنچری نے ثابت کیا کہ بڑے میچز کے دباؤ کو کیسے برداشت کیا جاتا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ فخر زمان جیسے تجربہ کار اور مخلص کھلاڑیوں کی قدر کرے۔ آئندہ سال ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے فخر زمان کی موجودگی ٹیم کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگی۔ اگر انہیں اہم میچز میں درست انداز میں کھلایا جائے تو وہ طویل عرصے تک ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔
ٹیم کے دیگر سینئر کھلاڑیوں کو بھی فخر زمان کے مثبت انداز سے سیکھنا چاہیے۔ کپتان شاہین آفریدی کی قیادت میں اگر کھلاڑی فخر زمان کی طرح اپنی ذمہ داری نبھائیں تو پاکستان کرکٹ دوبارہ بلندیوں کو چھو سکتی ہے، جس سے قوم کا مورال بھی بلند ہوگا۔
بشکریہ روزنامہ جسارت