پیر، 2 نومبر، 2026 · 23 جمادی الاول، 1448 ہجری

دماغی سرطان کے علاج میں بڑی پیشرفت، نئی تکنیک سے کینسر کا خاتمہ ممکن

قومی خبریں
دماغی سرطان کے علاج میں بڑی پیشرفت، نئی تکنیک سے کینسر کا خاتمہ ممکن

واشنگٹن: امریکی سائنسدانوں نے دماغ کے خطرناک ترین سرطان گلیوبلاسٹوما کے علاج کے لیے ایک نئی اور انتہائی امید افزا تجرباتی تکنیک تیار کر لی ہے جس سے مستقبل میں کینسر کے مریضوں کے لیے زندگی کی نئی راہیں کھلنے کی قوی توقع کی جا رہی ہے۔

یونیورسٹی آف ورجینیا کے کمپریہینسیو کینسر سینٹر کے ماہرین نے اس جدید طریقہ کار کو تخلیق کیا ہے۔ انہوں نے اس تحقیق کے دوران خصوصی جینیاتی مالیکیولز، جدید نینو پارٹیکلز اور فوکسڈ الٹراساؤنڈ کی ٹیکنالوجی کو یکجا کر کے ایک موثر اور مربوط نظام تشکیل دیا ہے۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق یہ جدید تکنیک دماغ کی قدرتی حفاظتی رکاوٹ کو انتہائی مہارت کے ساتھ عارضی طور پر عبور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس طرح علاج کے لیے استعمال ہونے والے خصوصی اجزاء براہ راست سرطان زدہ خلیوں تک پہنچ کر انہیں نشانہ بنا سکتے ہیں۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ راجر ایبونیڈر نے کہا کہ یہ نیا طریقہ علاج ایک ہی وقت میں سرطان کی تیزی سے افزائش میں کردار ادا کرنے والے متعدد اہم جینیاتی عوامل کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے جو اس کینسر کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سائنسدانوں کو قوی امید ہے کہ اس اہم تحقیق کو بہت جلد کلینیکل ٹرائلز کے مراحل تک پہنچایا جائے گا۔ اس پیش رفت سے گلیوبلاسٹوما اور دماغی رسولیوں کے دیگر مریضوں کے علاج کے لیے مستقبل میں وسیع تر اور موثر نئے طبی امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ جدید طریقہ کار تاحال ابتدائی تجرباتی مراحل میں ہے اور اسے مکمل طور پر محفوظ قرار دینے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی مریضوں پر اس کی حتمی افادیت ثابت ہونے کے بعد ہی اسے باقاعدہ علاج کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ گلیوبلاسٹوما دماغ کے کینسر کی ایک ایسی قسم ہے جس کا علاج اب تک طبی دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔

سائنسی حلقوں میں اس نئی تحقیق کو ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے جو مستقبل میں کینسر سے لڑنے والے مریضوں کے لیے ایک امید کی کرن ثابت ہوگی۔

بشکریہ روزنامہ جسارت