پیر، 2 نومبر، 2026 · 23 جمادی الاول، 1448 ہجری

ملکی معیشت 3 دہائیوں سے جمود کا شکار، اقتصادی ماہرین کا سخت اظہار تشویش

قومی خبریں

اسلام آباد: پاکستان کی معیشت گزشتہ 3 دہائیوں سے مسلسل جمود کا شکار ہے،جس کی وجہ سے ملک کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ ایک خصوصی کانفرنس کے دوران ماہرین نے ملکی معاشی پسماندگی کی بنیادی وجوہات کو کھل کر بیان کیا ہے۔

نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات پروفیسر ڈیرون عجم اوغلو نے کہا کہ پاکستان کے کمزور ادارے، تعلیم پر انتہائی کم سرمایہ کاری اور ٹیکس وصولی کا ناقص نظام ملک کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی کمی نقصان دہ ہے۔

پروفیسر عاطف میاں نے مزید کہا کہ پاکستان میں اسٹریٹجک وژن کی شدید کمی ہے جبکہ اشرافیہ کی بالادستی اور غیر مساوی ترقی نے مسائل کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی بحران کے حل میں بااثر مفاداتی گروہوں کی مزاحمت مرکزی رکاوٹ ہے۔

کانفرنس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ان خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں سیاسی مصلحتوں کے باعث کئی اہم فیصلے موخر کیے گئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت اب ٹیرف اصلاحات، زرعی انکم ٹیکس اور سرکاری اداروں کی نجکاری جیسے مشکل فیصلے کر رہی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے بارے میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے قومی پالیسی منظور کر لی ہے اور آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنا رہی ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا متفقہ مؤقف ہے کہ پاکستان کو درپیش اصل چیلنج پالیسیوں کی کمی نہیں بلکہ ان پر دیانت داری سے عمل درآمد ہے۔ ماہرین کے مطابق طویل مدتی استحکام کے لیے وعدوں کے بجائے عملی اقدامات کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔

ملک کو درپیش معاشی مسائل کا حل طویل عرصے سے زیر بحث ہے مگر نتیجہ خیز اقدامات کا انتظار ہے۔ کانفرنس میں شریک ماہرین نے زور دیا کہ اگر پاکستان نے بروقت درست اصلاحات نہ کیں تو وہ بدلتی ہوئی عالمی معاشی دوڑ میں مزید پیچھے رہ جائے گا۔

بشکریہ روزنامہ جسارت